تین فورمز سے ہارنے والا ازسر نو دعویٰ کا حقدار نہیں ،آئینی عدالت
اسلام آباد(اے پی پی)وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ تین مختلف فورمز سے کیس ہارنے والا فریق ازسر نو دعویٰ دائر کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے 1985 سے جاری جائیداد کے ایک طویل تنازع کا فیصلہ سناتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کوئی بھی فریق اپنی غلطی، کوتاہی یا سستی کی بنیاد پر ہارا ہوا مقدمہ دوبارہ شروع کرنے کا حق نہیں رکھتا اور ایک ہی معاملے پر بار بار مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ رجسٹرڈ سرکاری دستاویزات کو قانون کی نظر میں درست اور قابلِ اعتبار تصور کیا جائے گا جبکہ محض شک یا الزامات کی بنیاد پر کسی رجسٹرڈ دستاویز کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔عدالت نے واضح کیا کہ رجسٹریشن ایکٹ کے تحت کسی بھی دستاویز کو تیار ہونے کے چھ ماہ کے اندر رجسٹر کرانا لازمی ہے ، بصورت دیگر اس کی قانونی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے ۔وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ زیرِ سماعت اپیل 27ویں آئینی ترمیم سے قبل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود کیس کا فیصلہ دستیاب شواہد اور مروجہ قانون کے مطابق کیا گیا۔ادھر سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ محض معاہدے کی بنیاد پر جائیداد کی ملکیت کا دعویٰ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔جاری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے سیکٹر E-12 میں پلاٹ سے متعلق 26 سالہ پرانے تنازع کا فیصلہ سناتے ہوئے مدعی کا دعویٰ خارج کر دیا۔ چیف جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔