ایرانی وضاحت کے بعد پاکستان کا کردار مزید حساس ہورہا

ایرانی وضاحت کے بعد پاکستان کا کردار مزید حساس ہورہا

اصل کھیل پردے کے پیچھے سفارتکاری کا ہے ،صبر، اعتماد سازی پر دارومدار

(تجزیہ:سلمان غنی)

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کیلئے اسلام آباد جانے سے انکار کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیکر جنگ بندی کیلئے پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا جو نعرہ لگایا ہے اس سے واضح ہوگیاایران کسی انتہائی موقف پر گامزن نہیں بلکہ امن اور جنگ بندی کیلئے جاری کوششوں کی تائید کرتا ہے، لہٰذا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر جنگ بندی کے عمل پر کون اور کیوں اثر انداز ہو رہا ہے اور امریکی میڈیا میں جاری بے بنیاد پراپیگنڈا کے مقاصد کیا ہیں ؟۔ایرانی وزیر خارجہ کی وضاحت سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی بیک ڈور رابطہ موجود ہے جسے فی الحال وہ اوپن کرنے کو تیار نہیں۔ اس وقت ایران جس کیفیت سے دوچار ہے وہ کسی بھی ثالثی یا مذاکراتی عمل کو کمزوری کے طور پر پیش نہیں ہونے دینا چاہتا،جہاں تک پاکستان کے کردار کا سوال ہے تو پاکستان اس وقت جاری جنگی عمل میں کھل کر اعلانات نہیں کرتا بلکہ بیک ڈور چینلز پر اس کا انحصار ہے اور اس کے روابط صرف فریقین تک محدود نہیں بلکہ وہ جنگ بندی سے بڑے مقصد کے حصول کیلئے چین، سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک کے ذمہ داران سے بھی رابطے میں ہے۔

پاکستان کا بڑا کریڈٹ یہ ہے کہ وہ کسی ایک بلاک یا فریق کی طرف جھکاؤ نہیں رکھتا اور اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے ۔پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ سرحدی اور سکیورٹی تعاون بھی برقرار رہے اور سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے بھی سٹرٹیجک تعلقات خراب نہ ہوں ،ایرانی وضاحت کے بعد پاکستان سیاسی سطح پر ایسے بیانات سے احتراز کرے گا جس سے ایران دباؤ محسوس کرے ،بلکہ عملی سفارتکاری پر توجہ دیتے ہوئے چین کے ساتھ مل کر اپنے مقاصد کے حصول میں اور زیادہ سرگرم ہوگا۔ایرانی وضاحت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا کردار ختم نہیں ہوا بلکہ مزید حساس ہو رہا ہے ، اصل کھیل پردے کے پیچھے سفارتکاری کا ہے ، جہاں کامیابی کا دارو مدار صبر ،توازن اور اعتماد سازی کا ہوگا۔جہاں تک ایرانی وضاحت کے امریکی حکمت عملی پر اثرات کا تعلق ہے تو امریکا دیکھے گا کہ واقعتاً کوئی بیک چینل موجود ہے ، اگر ہو تو وہ اسے خاموشی سے سپورٹ بھی کر سکتا ہے مگر کھل کر اس کا حصہ بننے سے گریز برتے گا جب تک ایران خود آمادگی ظاہر نہ کرے۔

امریکی پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ ایران عوامی سطح پر انکار کے باوجود مذاکرات کے آپشن کو نہ چھوڑے ،امریکا اس صورتحال کو دباؤ اور رابطہ کی پالیسی کے تحت بھی دیکھے گا یعنی دباؤ بھی جاری رکھے گا اور دروازہ بھی کھلا رکھے گا ،اس لئے یہ عالمی طاقتیں ایسے بیانات کو حرف آخر نہیں سمجھتیں بلکہ اصل توجہ عملی اقدامات اور بیک چینل پر ہوتی ہے اور امریکا ایران کے ہر بیان کو مذاکراتی عمل کے طور پر دیکھتا ہے نہ کہ حتمی فیصلہ کے طور پر، لہٰذا امریکا کی بیک ڈور امکانات پر نظر رہے گی اور ثالثی کوششوں کو خاموشی سے مانیٹر کرے گا ۔جہاں تک جنگ بندی کے امکانات کا تعلق ہے تو یہ ممکن تو ہے مگر آسان نہیں، اس لئے یہ دونوں ممالک کسی بڑی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں