عدالتی نظام میں ریفارمز پر نہ جاؤ ،اور مسئلے آگئے : منصور شاہ

عدالتی نظام میں ریفارمز پر نہ جاؤ ،اور مسئلے آگئے : منصور شاہ

26اور 27ویں ترامیم کو نہیں مانتا، یہ ٹھیک ہو جائیں پھر ہی کچھ ہوسکتا ہے ریاست کی طرف سے لازم ہونا چاہیے کہ کیس سے پہلے مصالحت ہو:خطاب

لاہور (کورٹ رپورٹر )سپریم کورٹ کے سابق جج منصور علی شاہ نے کہا عدالتی نظام میں ریفارمز پر نہیں جاؤ آج کل وہاں اور مسئلے آگئے ہیں، 26 اور27 ویں ترمیم کو تو میں نہیں مانتا پہلے یہ ترامیم ٹھیک ہو جائیں پھر ہی کچھ ہوسکتا ہے ۔ریاست کی طرف سے لازم ہونا چاہیے کہ کیس سے پہلے مصالحت ہو۔ بات چیت سے معاملات کو حل کریں میرا پیغام ہے لیگل سسٹم کو تبدیل کریں یہ ایسے نہیں چل سکتا جیسے چل رہا ہے لڑائی جھگڑے ختم کریں رشتے مضبوط کریں لوگوں کو اکٹھا کریں توڑیں مت۔مصالحتی نظام کی افادیت سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے ڈی آر جسٹس سسٹم سب سے قدیم سسٹم ہے۔

اگر اے ڈی آر سسٹم کو آگے لیکر چلیں تو 20 لاکھ زیر التوا کیسز کا حل نکل سکتا ہے ۔عدالتی نظام سے پہلے مصالحتی نظام ہوتا تھا ۔ آہستہ آہستہ مصالحتی نظام ،کمیونٹی سنٹر سسٹم پیچھے چلا گیا۔ سید منصور علی شاہ نے کہا کہ ہزاروں کیسز ایسے ہیں جس کیلئے عدالت جانے کی ضرورت نہیں ہوتی انفرادی کیسز میں عدالتوں سے جا کر سٹے لینے کا رواج ختم ہونا چا ہئے ،چائنہ کے نزدیک کیس کا مطلب کسی رشتے کا ناکام ہونا ہے ۔چائنیز کلچر ہے کہ وہ لیٹگیشن میں جانے کی بجائے مسائل کو حل کرتے ہیں جب آپ کیس کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ سے اپنا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ تقریب سے خطاب میں منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں اپنے کلچر میں یہ سوچ لانی ہے کہ ہر چیز کا حل لڑائی نہیں ڈائیلاگ ہونا چاہیے لڑائی جھگڑوں میں کچھ نہیں رکھا۔

لڑائی جھگڑے صرف سوسائٹی کو توڑتے ہیں پاکستان میں لیٹگیشن بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں ہمیں پہلے مصالحت کی طرف جانا پڑے گا اگر مصالحت ناکام ہو تو پھر لیٹگیشن میں جائیں ہمارے پاس 3ہزار جج ہیں اور ہماری آبادی 25کڑور ہے جتنے کیس حل ہوتے ہیں کہ اتنے ہی نئے دائر ہو جاتے ہیں۔ سابق جج منصور علی شاہ نے کہا کہ اپنے دور میں ہر ضلع میں اے ڈی آر سنٹر بنایا۔ ججز کو ٹریننگ دی گئی ،ہر جج کو کہا گیا کہ پہلے مصالحت کرائیں ۔ میرا پیغام یہی ہے کہ لیگل سسٹم کو تبدیل کریں یہ ایسے نہیں چل سکتا جیسے چل رہا ہے ۔ تقریب سے ورلڈ بینک گروپ کی مصالحتی مشیر سارا تارڑ اور انٹرنیشنل میڈیٹر اورآئینی ماہر فیصل نقوی نے بھی خطاب کیا آخر میں شرکاء میں شیلڈ بھی تقسیم کی گئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں