عالمی امن اور خطہ کیلئے جلد جنگ بندی ضروری : خورشید قصوری
حالیوں کاوشوں میں چین کا پاکستان کی پشت پر آ کھڑا ہونا اہم پیشرفت ہے دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ، امریکا چین کی گارنٹی پر آ سکتا :دنیا سے گفتگو
لاہور (نامہ نگار خصوصی)سینئر سیاستدان وسابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے امریکا ،ایران جنگ میں امن اور جنگ بندی کے حوالہ سے پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جتنی جلد جنگ بندی ممکن ہو عالمی امن اور اس خطہ کیلئے ضروری ہے ، خدانخواستہ یہ سلسلہ جاری رہا تو تباہی و بربادی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا، پاکستان کی ساکھ اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ جنگی فریقین کے ساتھ خلیجی ممالک اور خصوصاً چین و روس بھی پاکستان کی دسترس میں ہیں اور پاکستان کی بات سنی جا رہی ہے ، سب سے اہم پیش رفت امن عمل اور جنگ بندی کی کاوشوں میں چین کا پاکستان کی پشت پر آ کھڑا ہونا ہے ، جنگ بندی کے عمل میں چین ہی گارنٹر بنے گا۔ وہ گزشتہ روز لندن سے دنیا نیوز سے بات چیت کر رہے تھے ۔
خورشید محمود قصوری نے کہا کہ ایرانی لیڈر شپ امریکا پر اعتبار کیلئے اس لئے تیار نہیں کہ دو دفعہ مذاکراتی عمل کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیا گیا لہذا بڑا مسئلہ مذاکرات میں گارنٹر کا تھا اور چین کی جانب سے عندیہ کے بعد یہ مسئلہ حل ہوتا نظر آ رہا ہے ،پاکستان خلیج میں جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ہم امن میں اس لئے سنجیدہ ہیں کہ ہمارے چالیس لاکھ لوگ خلیجی ممالک میں روزگار کما رہے ہیں ہم ان کے خلاف جا نہیں سکتے ، اس لئے ہم جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔خورشید قصوری نے کہا کہ اس محاذ پر پاکستان کی سنجیدگی عیاں ہے ، دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے لہٰذا جتنا جلد ڈائیلاگ کا راستہ اپنا لیا جائے یہ خطہ اور عالمی امن کیلئے ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا چین کی گارنٹی پر آ سکتا ہے ،روس پر اس لئے اعتماد نہیں کرے گا کہ روس کھلے طور پر ایران کے ساتھ ہے اور صدر پوٹن سے اب امر یکا کے تعلقات اچھے نہیں رہے لہٰذا پاکستان کا ثالثی کردار اہم بھی ہے اور امن کے لئے ناگزیر بھی، اس کی نتیجہ خیزی کے لئے سب فریقین کو اپنا مثبت کردار اپنانا اور آگے آنا ہوگا۔