بلوچستان میں 280 روپے پٹرول،باقی ملک میں کیوں نہیں؟

بلوچستان میں 280 روپے پٹرول،باقی ملک میں کیوں نہیں؟

مارجن میں اضافہ نہ کیا گیا تو پٹرول پمپ چلانا ممکن نہیں رہے گا: ایسو سی ایشن رہنما

اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ) پاکستان پٹرول پمپس ڈیلرزایسوسی ایشن اور آل پاکستان پٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کاکہناہے بلوچستان میں 280 روپے پٹرول،باقی ملک میں کیوں نہیں؟ مارجن میں اضافہ نہ کیا گیا تو پٹرول پمپ چلانا ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے مارجن میں انوائس قیمت کے حساب سے فوری آٹھ فیصد تک اضافہ کیا جائے ، موجودہ مارجن شدید معاشی دباؤکے باعث ناقابل عمل ہو چکا اوربڑھتی پٹرولیم قیمتوں، مہنگائی اور کاروباری اخراجات میں غیر معمولی اضافے کے باعث موجودہ حالات میں کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، عالمی مارکیٹ کے اثرات کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے پہلے سے کم مارجن مزید متاثر کیا جس کے باعث کاروبار چلانا مشکل ہو گیا ، حکومت نے اس مطالبے پر توجہ نہ دی تو ملک بھرمیں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کی وجہ پٹرول پمپس بند ہو جائینگے ۔ اس بات کا اظہار چیئرمین پاکستان پٹرولیم ڈیلرزا یسوسی ایشن عبد السمیع خان، چیئرمین آل پاکستان پٹرولیم اونرز ایسوسی ایشن ہمایوں خان، گل نواز ، انعام الحق، اختر نواز خان، راجہ وسیم ، عرفان الٰہی و دیگر کے ساتھ پریس کانفرنس میں کیا۔ ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں نے کہاکہ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے او ایم سی کو فائدہ ہوا کسی ڈیلر کو نہیں ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے پہلے سے کم مارجن کو مزید متاثر کیا، اس اقدام کی وجوہات میں مسلسل بڑھتی مہنگائی آپریشنل اخراجات میں 300 فیصد تک اضافہ، سرمایہ کاری اور فنانسنگ لاگت میں نمایاں اضافہ شامل ہیں۔ ہمارا کمیشن فیصد کی بنیاد پر طے کیا جائے ۔ حکومت زیادتی کر رہی کیونکہ کمیشن فکس ہے اس لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت 500 تک جانے پر بھی وہی کمیشن چل رہا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں