ایران کا سعودی توانائی تنصیبات پر حملہ پاکستان کیلئے بڑا امتحان
تحفظات کے باوجود پاکستان امن کے خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کیلئے سرگرم
(تجزیہ:سلمان غنی)
ایران کی جا نب سے سعودی عرب کے شہرالجبیل کے توانائی مرکز پیٹرو کیمیکل پر میزائل اور ڈرونز کے حملوں نے نہ صرف امن و جنگ بندی کیلئے جاری کوششوں اور کاوشوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی بلکہ ثالثی اور جنگ بندی کیلئے متحرک پاکستان کو بڑے امتحان میں ڈال دیا ۔سعودی عرب کے شہر پر حملہ نے ایک نئی صورتحال طاری کردی اور پاکستان نے قدرتی طور پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف اس حوالہ سے واقعہ کی مذمت کی بلکہ سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار کو تنازع کے حل کی منصفانہ و مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرا دیا۔کانفرنس کے ا علامیہ میں سعودی عرب کے تحمل کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ سعودی عرب کے اس طرز عمل کے باعث ثالثی اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہوئی ۔ مذکورہ صورتحال کی روشنی میں اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ پاکستانی حکومت اور ریاست نے اپنے رد عمل کے ذریعہ ایران کو یہ تو پیغام دے دیا کہ یہ واقعہ ہمارے لئے چیلنج سے کم نہیں، اس لئے کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ ہیں ۔بلا شبہ ایران کا سعودی عرب پر حملہ بالواسطہ طور پر امن کیلئے جاری کوششوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے ، ایران کو مذکورہ حملے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، اس کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ اور یہ کہ پاکستان دفاعی پیکٹ کے تحت ایسے حملوں کا جواب دینے کا پابند ہوگا۔
ویسے تو خود صدر ٹرمپ کے اپنے بیانات اور اعلانات نے ٹکراؤ اور تناؤ کو تھمنے نہیں دیا لیکن ان کے اس جارحانہ انداز کے ساتھ وہ کہیں نہ کہیں مذاکرات کا عندیہ بھی دیتے نظر آئے ، لیکن دوسری جانب ایران اور انکی لیڈر شپ باوجودایران میں بربادی کے پسپائی کیلئے تیار نظر نہیں آرہی تھی ،یہ پاکستان تھا جو فریقین کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے اور لڑائی کا سفارتی حل نکانے کیلئے کاوشیں کرتا نظر آرہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا کے اہم فیصلہ کا حل ‘‘اسلام آباد معاہدے ’’کے نام سے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے حوالہ سے حقیقت پسندانہ حل کی بات ہورہی تھی لیکن پیر اور منگل کی شب سعودی عرب کے شہر الجبیل میں اہم تنصیبات کو ٹارگٹ کرنے سے نئی صورتحال پیدا ہو گئی اور اس نے پاکستان کیلئے بڑا امتحان کھڑا کردیا کیونکہ پاکستان نے باور کروا رکھا تھا کہ آپ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک پر حملہ سے گریز برتیں ، اس لئے ان حملوں کے بعد سب سے زیادہ پریشان کن صورتحال پاکستان کیلئے کھڑی ہوئی ۔دوسری جانب سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر حملوں سے لگتا ہے کہ ایرانی قیادت بھی اپنے اندر موجود انتشار اور تقسیم کیلئے سرگرم عناصر کے ہاتھوں مجبور ہے ۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان اس مرحلہ پر کیا کرے گا؟،ایران پاکستان کا امتحان نہ لے اور جنگ بڑھانے کی بجائے امن کی راہ اپنائے ، امریکا دنیا میں سپر پاور ہے اس لئے اسے اپنا بڑا کردار ادا کرنا پڑے گا ۔ جہاں تک امن معاہدہ کے امکانات کا سوال ہے تو تحفظات کے باوجود پاکستان اپنے سفارتی کردار سے امن کے خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کیلئے سرگرم ہے ،پاکستان کا یہ کردار تاریخ میں محفوظ رہے گا۔