عید الاضحی پر کانگو وائرس کا خطرہ:قومی ادارہ صحت کا الرٹ جاری
نیرو وائرس کانگو بخار کی وجہ، جانوروں کے بالوں میں چھپی چیچڑیوں سے پھیلتا ہے گزشتہ برسوں میں کیسز اور اموات میں اضافہ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر کی ہدایت
اسلام آباد (نیوز رپورٹر)قومی ادارہ صحت نے کانگو بخار (سی-سی-ایچ-ایف) سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ۔ صحت کے متعلقہ اداروں کو ایڈوائزری میں کہا گیا کہ عید الاضحی کے دوران جانوروں کی نقل و حرکت اور قربت کے پیش نظر بیماری کی منتقلی روکنے کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔ کانگو بخار نیرو وائرس سے ہونے والی بیماری ہے جو جانوروں جیسے بکری، بھیڑ اور خرگوش کے بالوں میں چھپی چیچڑیوں میں پایا جاتا ہے ۔ یہ وائرس انسانوں میں چیچڑی کے کاٹنے ، یا ذبح کے دوران متاثرہ جانور کے خون اور بافتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے ۔ پاکستان میں پہلا کیس 1976ء میں رپورٹ ہوا۔ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ سے بھی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ 2024 میں 61 کیسز اور 15 فیصد شرحِ اموات رہی، 2025 میں کیسز 82 اور اموات 20 تک پہنچ گئیں۔ مارچ 2026 تک مزید چار کیسز رپورٹ ہو چکے ۔ ایڈوائزری میں کہا گیا عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی نقل و حرکت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے اس لیے احتیاط کریں اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں تاکہ چیچڑی کا آسانی سے پتہ چل سکے ۔ جانور ذبح کرتے اور گوشت بناتے وقت دستانے استعمال کریں۔ خون اور آلائشیں احتیاط سے تلف کریں۔