کیوں لڑ رہے ہیں؟ تھوڑا آرام سے بات کریں :چیف جسٹس
کیس دوسرے بینچ میں لگا دیتے ہیں ،انکا کیس آئندہ میرے سامنے نہ لگایا جائے ہم قبرستان کی زمین آپ کو کیسے دے دیں؟ جسٹس جمال مندوخیل ،فیصلہ محفوظ
لاہور (کورٹ رپورٹر )سپریم کورٹ نے شہری کی ایک کنال 16 مرلہ زمین ٹرسٹ کی قرار دینے کے خلاف نظر ثانی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے فاطمہ بی بی کی نظر ثانی اپیل پر سماعت کی ،درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ لیاقت علی قریشی پیش ہوئے ، دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے کہ ریکارڈ کے مطابق یہ قبرستان کی زمین ہے ،جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ زمین قبرستان کی نہیں ہے پاکستان بننے سے پہلے سے ہمارے آباؤ اجداد رہ رہے ہیں، چیف جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دئیے کہ یہ نظر ثانی کی درخواست ہے ،آپ صرف اسی نقطے پر دلائل دیں جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس میں کہا کہ ہم قبرستان کی زمین آپکو کیسے دے دیں؟۔
درخواست گزار وکیل نے کہا کہ مجھے دو منٹ دے دیں میں ثابت کروں گا یہ قبرستان کی زمین نہیں ہے جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ آپ کیوں لڑ رہے ہیں؟ تھوڑا آرام سے بات کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ کیس کسی دوسرے بینچ میں لگا دیتے ہیں انکا کیس آئندہ میرے سامنے نہ لگایا جائے ، وکیل نے کہا کہ آپ مجھ سے عہدے میں بڑے ہیں مگر میں عمر میں آپ سے بڑا ہوں میں آپ کے سامنے پیش نہیں ہوں گا تو آپ سے کیسے سیکھوں گا ؟۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گزار کی لاہور کے علاقہ لکشمی چوک کے قریب ایک کنال سولہ مرلہ زمین ہے محکمہ اوقاف نے 1978 میں ٹرسٹ کی زمین قرار دے کر خالی کرنے کا حکم دیا درخواست گزار نے محکمہ اوقاف کے فیصلے کو چیلنج کیا ،تمام عدالتوں نے محکمہ اوقاف کاحکم درست قرار دیتے ہوئے درخواستیں خارج کردیں۔