معاشی حالات بہتر نہ کیے تو کامیابیاں عارضی ،چیئرمین سینیٹ کمیٹی
داسو ٹرانسمیشن لائن منصوبہ قومی احتساب بیورو اور ایف آئی اے کو بھیجنے کی ہدایت اقتصادی امور کمیٹی کا اجلاس، ارکان کا مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار
اسلام آباد( اپنے رپورٹر سے ،آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اہم ترقیاتی منصوبوں اور مالی امور کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے داسو ٹرانسمیشن لائن منصوبے کو قومی احتساب بیورو اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھیجنے کی ہدایت کی ۔ ٹینڈرنگ کے عمل میں بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پروکیورمنٹ ٹیم کو معطل کرنے اور نیسپاک افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پاکستان کو حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر عزت ملی ہے تاہم اگر معاشی حالات بہتر نہ کیے گئے تو یہ کامیابیاں عارضی ثابت ہو سکتی ہیں۔اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے ) حکام نے این-45 چکدرہ تا تیمرگرہ سیکشن پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کا پی سی ون اور تفصیلی ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے جبکہ اس کی لاگت 17 ارب روپے سے زائد ہوگی۔ 3.65 ارب روپے حکومتی فنڈز جبکہ 13.35 ارب روپے بیرونی فنڈنگ سے حاصل کیے جائیں گے ۔اس کی فنانسنگ ایگزیم بینک آف کوریا کر رہا ہے ۔ کمیٹی نے منصوبے کے دیگر دو سیکشنز کی تفصیلات بھی طلب کر لیں ۔چیئرمین کمیٹی نے کرپشن کے خاتمے اور نااہل افسران کے خلاف کارروائی پر زور دیا۔