3سال میں 100ارب ڈالر بیرون ملک بھیجے گئے،تاجر بجٹ سے پہلے 10ارب ہی واپس لے آئیں:وزیر داخلہ
کراچی سے صرف ایک دو بندے اٹھالیں تو پتہ چل جائیگا کہ یہ دولت کیسے منتقل ہوئی ،محسن نقوی منی لانڈرنگ پر معافی نہیں،تاجروں کے تحفظات دور کرینگے ،دنیا میں پاکستان جیسا منافع کوئی نہیں دیتا، ایف پی سی سی آئی میں خطاب
کراچی(کامرس رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کراچی کی بزنس کمیونٹی کے تمام تحفظات ہر صورت دور کیے جائیں گے اور وہ اسی مقصد کے تحت فیڈریشن چیمبر آف کامرس کے پلیٹ فارم پر آئے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین سے چار برس کے دوران پاکستان سے تقریباً100ارب ڈالر بیرونِ ملک منتقل ہوچکے ہیں جبکہ پاکستانی سرمایہ کاروں کی خطیر سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات میں موجود ہے ۔ فیڈریشن چیمبر آف کامرس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بزنس کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ کم از کم 10 ارب ڈالر بجٹ سے قبل ملک میں واپس لائیں،جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے صرف 30فیصد سرمایہ بھی واپس آ جائے تو معیشت کو سہارا بڑامل سکتا ہے ۔ملک سے جو پیسہ لے کر باہر چلا گیا اس کا پتہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے ، کراچی سے ایک دو بندوں کو اٹھا لیں وہ سب کچھ بتا دیں گے ۔
سب کو پتہ ہے کہ منی چینجرز کیوں رکھے ہوئے ہیں، موجودہ صورتِ حال میں منی لانڈرنگ کرنے والوں کو کوئی معافی نہیں، لوگوں کو چاہیے کہ پیسے تبدیل کرانے کیلئے بینک جائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بزنس ویزہ پالیسی پر جلد وزیر اعظم کو بریفنگ دے گی اور کاروباری افراد کے لیے خصوصی پاسپورٹ کے اجرا پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔محسن نقوی نے کہا کہ حکومت ہاؤسنگ سیکٹر کی بحالی کے لیے اہم اقدامات کرنے جا رہی ہے اور وزیر اعظم جلد اس حوالے سے بڑا اعلان کریں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی حدود میں رہتے ہوئے ہاؤسنگ سیکٹر کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا، جبکہ ہوٹل انڈسٹری میں سرمایہ کاری پر تمام ٹیکسز 16ماہ کے لیے معاف کرنے کی تجویز زیر غور ہے ۔ ایئرپورٹ پر کاروباری افراد کیلئے علیحدہ کاؤنٹر ہوگا جبکہ ایمبسیز انہیں ترجیح بنیاد پر ویزے دیں گی،ایف آئی اے کے معاملات کو بزنس فرینڈلی کریں گے ، ایف آئی اے میں جاری ہزاروں انکوائریز کلیئر کریں گے ، تاجروں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،تاجر کو درپیش مسائل حل کریں گے ۔وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کوئی بات کرتے ہیں تو اِسے پورا کرتے ہیں۔وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو اِس سال میں تبدیل کر دیں گے ۔اس موقع پر یونائیٹڈ بزنس گروپ کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے کہا کہ وزیر اعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ کی کوششوں سے پاکستانی گرین پاسپورٹ کی عالمی سطح پر پذیرائی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عسکری لحاظ سے ایشیئن ٹائیگر بن چکا ہے اب اسے معاشی ٹائیگر بنانا ہوگاتاہم انہوں نے ایف بی آر کے ٹیکس نظام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی50 فیصدصنعت بند پڑی ہے اورکاروباری طبقہ گزشتہ تین برس سے شدید دباؤ کا شکار ہے لہٰذا طویل المدتی صنعتی پالیسی ناگزیر ہے ۔سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے خطاب میں کہا کہ پاکستان ہاؤسنگ سیکٹر کے ذریعے اربوں ڈالر کما سکتا ہے ، تاہم موجودہ ٹیکس قوانین اور پابندیوں نے اس شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔انہوں نے زور دیا کہ معاشی نمو کو فوری طور پر 5 فیصد تک بڑھانے کے لیے پراپرٹی سیکٹر کو فعال کرنا ہوگا ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لوگ صرف بینکنگ سیکٹر سے سود کھانے پر توجہ دے رہے ہیں ،اسی دوران فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے وزیر داخلہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پرامن ماحول کاروبار کے لیے بنیادی ضرورت ہے ۔انہوں نے سندھ میں انفرااسٹرکچر کے مسائل، ایئرپورٹ پر بزنس کمیونٹی کے لیے الگ ڈیسک کے قیام اور حکومت کے ساتھ تعمیری مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پرڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی عثمان احمد نے یقین دہانی کرائی کہ قانون معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور حکومت و کاروباری برادری کے درمیان دوطرفہ رابطے کے ذریعے سازگار ماحول کی فراہمی جاری رکھی جائے گی ۔تقریب میں حکومتی نمائندوں اور کاروباری رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معاشی استحکام کے لیے سرمایہ کاری، پالیسی تسلسل اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے ۔