ایران امریکا مذاکرات میں بیک ڈور ڈپلومیسی جاری :عزیر یونس
آبنائے ہرمز کی ناکا بندی سے امریکا اپنا پریشر بڑھانا چاہتا ہے :ماہر عالمی امور امریکا سے موازنے میں چین پرزیادہ بوجھ : ’’دنیا مہر بخاری کیساتھ ‘‘گفتگو
لاہور (دنیا نیوز)ماہر بین الاقوامی امور عزیر یونس نے کہا ہے کہ ایران امریکا مذاکرات میں بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے اوررکی نہیں ، امریکا آبنائے ہرمز کی ناکا بندی سے اپنا پریشر بڑھانا چاہتا ہے جبکہ روس اور چین اہم ممالک ہیں جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں ۔دنیا نیوز کے پروگرام‘‘دنیا مہر بخاری کیساتھ ’’میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور چین کے موازنے میں چین پر بوجھ زیادہ ہو گاکیونکہ امریکا خود نیٹ ایکسپورٹر ہے جو چین نہیں ، اس کی گیس اپنی اورتیل اپنا ہے ، وینزویلا کا بھی تیل اس کے پاس ہے۔
امریکا کی صرف سٹریٹجی یہی ہے کہ اکنامک پریشر بڑھایا جائے اور چین کو بھی باور کرایا جائے کہ اس کا بوجھ چین پر بھی پڑ سکتا ہے ۔ عزیر یونس نے کہا کہ ایران کہہ رہا ہے ہم آبنائے ہر مز سے صرف ان جہازوں کو گزرنے دیں گے جس کی ہم اجازت دیں گے دوسری طرف امریکا نے کہا ہے ہم اس سے آگے ناکہ لگائیں گے اورایران کی ٹرانسپورٹ کو یہا ں سے روکیں گے ، خاص طور پر اس تیل کو جو ایران سے نکل کر کہیں باہر جائے گا تاکہ ایران کے ساتھ ساتھ ان ملکوں کو بھی تکلیف ہو جہاں اسے جانا تھا ، اس طرح ایران جو سرمایہ بنا نا چاہتا ہے وہ نہیں ہو پائے گا ۔