قبل از وفات بیٹی کے ورثا نانا نانی کی جائیداد میں حقدار : آئینی عدالت
ورثا کو حق ملنا چاہیے ، سردار بیگم کو وراثتی انتقال میں شامل نہ کرنا غلطی جائیداد ازسرنو 3بیٹوں، 4بیٹیوں میں تقسیم کی جانی چاہیے ، حکام طلب
اسلام آباد (اے پی پی، دنیا نیوز)وفاقی آئینی عدالت نے وراثتی حقوق سے متعلق اہم اور اصولی پیش رفت میں قرار دیا کہ قبل از وفات بیٹی کے ورثا بھی اپنے نانا اور نانی کی جائیداد میں برابر کے حق دار ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، بینچ میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے ۔ وکیل حافظ احسان کھوکھر نے موقف اختیار کیا کہ وراثتی حق مورث کی وفات کے ساتھ ہی پیدا ہو جاتا اور ریونیو ریکارڈ کی غلطی یا تکنیکی نکات کی بنیاد پر اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس موقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ سردار بیگم کے ورثا کو دہائیوں سے محروم رکھا گیا جو سنگین ناانصافی تھی۔ وراثتی حقوق وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتے اور قانونی ورثا کو ان کا حق ہر صورت ملنا چاہیے۔
1968 میں چودھری عبداﷲکی وفات کے بعد وراثتی انتقال میں سردار بیگم کو شامل نہ کرنا ایک واضح غلطی تھی جس کے باعث ان کے ورثا تقریباً 58 برس تک اپنے حق سے محروم رہے ۔ 1987 میں فاطمہ بی بی کی وفات کے وقت بھی یہی غلطی برقرار رہی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کنسولیڈیشن کارروائی میں بھی اس اہم پہلو کو نظر انداز کیا گیا، جائیداد ازسرنو تین بیٹوں اور چار بیٹیوں میں تقسیم کی جانی چاہیے ۔ عدالت نے Impleadment کی درخواست منظور کرتے ہوئے سردار بیگم کے ورثا اور مرحوم جاوید اقبال کے متبادل ورثا کو بھی کیس میں شامل کر لیا۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر متعلقہ کنسولیڈیشن افسر، پٹواری اور تحصیلدار کو پیش کیا جائے تاکہ جائیداد کی نئی تقسیم کے عمل میں پیش رفت ہو سکے ۔ سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔