بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں کا آغاز، انتظامی حدود کی تبدیلی پر پابندی : الیکشن کمیشن
لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026، قواعد کے تحت یونین کونسلز کی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری، 21مئی تک ابتدائی فہرستیں تیار 25مئی کو ابتدائی فہرستیں شائع، 23جون تک اعتراض جمع کرائے جا سکیں گے :الیکشن کمیشن، ڈیلیمیٹیشن اتھارٹیز کا بھی تقرر
اسلام آباد (نیوز رپورٹر)الیکشن کمیشن پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں کا آغاز کرتے ہوئے صوبے بھر میں انتظامی حدود کی تبدیلی پر فوری پابندی عائد کر دی۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026 اور متعلقہ قواعد کے تحت یونین کونسلز کی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کیا گیا ہے ، یونین کونسلز کی حلقہ بندیوں کے دوران موجودہ انتظامی اکائیوں بشمول اضلاع، تحصیلوں، قانون گو حلقوں، پٹوار سرکلز، ریونیو سٹیٹس اور شہری و دیہی علاقوں کی حدود کو مدنظر رکھنا ضروری ہے ،الیکشن کمیشن نے حکم جاری کیا کہ پنجاب بھر میں ٹاؤن کارپوریشنز، میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیز اور تحصیل کونسلز سمیت تمام انتظامی اکائیوں کی حدود کو منجمد کر دیا گیاہے حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہونے تک ان حدود میں ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔
حلقہ بندیوں کے تمام انتظامی انتظامات جن میں نقشوں کا حصول، حلقوں کی نشاندہی، فارمز کی پرنٹنگ اور حلقہ بندی کمیٹیوں و اتھارٹیز کی تربیت شامل ہے ، 16 اپریل تک مکمل کر لیے جائیں گے ۔ حلقہ بندی کمیٹیاں 20 اپریل سے 21 مئی تک حلقوں کی ابتدائی فہرستیں تیار کرنے کی پابند ہوں گی، ابتدائی فہرستوں کی عوامی اشاعت 25 مئی کو کی جائے گی۔26 مئی سے 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات جمع کرائے جا سکیں گے ، عید کی تعطیلات شامل نہیں ہوں گی۔ اعتراضات پر حلقہ بندی اتھارٹیز کی جانب سے فیصلے اور 22 جولائی تک نمٹایا جائے گا،حلقہ بندی اتھارٹیز اپنے فیصلوں سے متعلقہ کمیٹیوں کو 4 اگست تک آگاہ کرنے کی پابند ہوں گی، جس کے بعد تمام مراحل کی تکمیل پر یونین کونسلز کی حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو شائع کر دی جائے گی۔ مزید برآں الیکشن کمیشن نے پنجاب میں یونین کونسلوں کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرستوں پر اعتراضات نمٹانے کے لیے ڈیلیمیٹیشن اتھارٹیز کا تقرر کر دیا۔مختلف ریجنل الیکشن کمشنرز کو متعلقہ اضلاع کے لیے باقاعدہ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔