پنجاب اسمبلی : امن و امان گندم پالیسی اور ایف آئی آرز پر حکومت و اپوزیشن آمنے سامنے
اپوزیشن لیڈر اور پانچ ارکان کو حبس بے جا میں رکھنے اور غداری کے مقدمہ پر کوئی جواب نہیں دیا جا رہا:میاں اعجاز شفیع کچے کے علاقے میں امن قائم،60فیصدجرائم کم :مجتبیٰ شجاع ،2 بلز کمیٹیوں کو منتقل ، ایران و فلسطین کے شہدا کیلئے فاتحہ
لاہور (سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی میں امن و امان، گندم پالیسی اور ایف آئی آرز پر حکومت و اپوزیشن آمنے سامنے آگئے ،ایران میں شہداء، فلسطین کے شہداء اور سپیکر پنجاب اسمبلی کی ہمشیرہ سمیت متعدد شخصیات کے انتقال پر دعائے مغفرت اور فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ دی سٹیمپ (ترمیم) آرڈیننس 2026 اور پنجاب فارنزک سائنس اتھارٹی (ترمیم) بل 2026 پیش کر کے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر د یئے گئے۔ پنجاب اسمبلی اجلاس دو گھنٹے انتالیس منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی صدارت میں شروع ہوا،جس میں سیکرٹری اسمبلی نے پینل آف چیئرپرسن کے ناموں کا اعلان کیا۔
اپوزیشن رکن میاں اعجاز شفیع نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور پانچ ارکان کو دس گھنٹے حبس بے جا میں رکھا گیا اور غداری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ ایوان میں اس پر کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔اس پر وزیر قانون رانا اقبال نے کہا کہ اپوزیشن بتائے کہ انہیں کب ایوان میں غیر حاضر پایا گیا۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر پارلیمانی امور میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ اپوزیشن اجلاس میں آخر تک نہیں بیٹھتی اور لا اینڈ آرڈر پر بات ہو تو ایوان سے چلی جاتی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو سال میں جرائم کی شرح میں 60 فیصد کمی آئی ہے اور کچے کے علاقے میں امن قائم ہو چکا ہے ۔ رکن پیپلز پارٹی ممتاز چانگ نے کہا کہ ماضی میں ان کے خلاف ایف آئی آرز اور چھاپے مارے جاتے تھے ، جبکہ آج ایک ایم پی اے پر کارروائی ہو تو شور مچایا جاتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ شفاف تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے ۔ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ حکومت نے کیپیٹل ویلیو سسٹم متعارف کرایا ہے ، جس سے ٹیکس نظام شفاف ہوا ہے اور افسروں کی صوابدیدی طاقت ختم ہو گئی ہے ۔ ایکسائز نظام آن لائن ہونے سے براہ راست رابطہ کم اور کرپشن میں کمی آئی ہے ، جبکہ پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ 10 سے 20 فیصد تک محدود رکھا گیا ہے ۔اپوزیشن رکن وقاص مان نے گندم کی پرکیورمنٹ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو نقصان ہوا اور باردانہ کی تقسیم میں مسائل ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر زراعت ایوان میں آکر وضاحت دیں۔اجلاس ایجنڈا مکمل ہونے پر آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔