سرکاری اداروں کے ایک ہزار ارب سنگل ٹریژری اکائونٹ سے باہر، بینکوں کو منافع

سرکاری اداروں کے ایک ہزار ارب سنگل ٹریژری اکائونٹ سے باہر، بینکوں کو منافع

یہ واضح سکینڈل ،اتنی بڑی رقم کمرشل بینکوں میں اور یہی بینک حکومت کو بلند شرح سود پر قرضے دیتے :چیئرمین خزانہ کمیٹی اربوں روپے وزارت خزانہ کے دائرہ اختیار سے باہر،کیا نوٹیفکیشن جاری کیا؟انوشہ رحمان،حکام تسلی بخش جواب نہ دے سکے قانون پر عمل کرا ئینگے :وزیر مملکت خزانہ، بینک صارفین سے سالانہ 18 ارب SMS چارجز وصولی کاانکشاف، رپورٹ طلب

اسلام آباد (مدثر علی رانا، سید قیصر شاہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام نے انکشاف کیا کہ سرکاری اداروں نے تقریباً ایک ہزار ارب روپے سنگل ٹریژری اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے بجائے مختلف کمرشل بینکوں میں اپنے اکاؤنٹس میں رکھے ہوئے ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 200 سے زائد سرکاری اداروں، ریگولیٹری باڈیز اور خودمختار اداروں نے یہ رقوم پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بینکوں میں جمع کر رکھی ہیں۔حکام کے مطابق قانون کے مؤثر نفاذ میں خامیوں کے باعث یہ رقوم حکومتی مالیاتی نظام کا حصہ نہیں بن سکیں۔ کمیٹی اراکین نے اس صورتحال کو قومی خزانے کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ مجموعی طور پر تقریباً 2000 ارب روپے مختلف اداروں کے پاس موجود ہیں جو مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ہیں۔

انوشہ رحمان نے وزارت خزانہ سے سوال کیا کہ آیا پی ایف ایم ایکٹ کی شق 36 کے تحت ایس او ایز سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا گیا یا نہیں تاہم وزارت خزانہ حکام تسلی بخش جواب نہ دے سکے جس پر سینیٹر نے برہمی کا اظہار کیا اورکہا کہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کی وجہ سے اداروں کو کھلی چھوٹ ملی کہ وہ اربوں روپے وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے باہر رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو چند ارب روپے حاصل کرنے کے لیے بچوں کے دودھ پر بھی جی ایس ٹی عائد کرتا ہے جبکہ دوسری طرف اربوں روپے وزارت خزانہ کے دائرہ اختیار سے باہر رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان رقوم کی تفصیلات ایوان بالا میں پیش کی جائیں۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس صورتحال کو واضح طور پر سکینڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب اتنی بڑی رقم کمرشل بینکوں میں موجود ہو تو یہی بینک حکومت کو بلند شرح سود پر قرض فراہم کرتے ہیں جس سے قومی معیشت پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے اپنے بورڈ کی منظوری سے 1.19 ارب روپے مراعات، پنشن اور دیگر سہولیات پر خرچ کیے ، جس پر آڈیٹر جنرل نے اعتراض اٹھایا۔وزارت خزانہ حکام بعض سوالات کے تسلی بخش جواب نہ دے سکے تاہم وزیر مملکت برائے خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کی ڈیجیٹل ڈیکلریشن پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ یہ نظام دسمبر 2026 تک مکمل فعال ہو جائے گا اور جون تک ڈیجیٹل فارم دستیاب ہوگا۔ حکام کے مطابق اس نظام کی ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پر عائد ہوگی۔ کمیٹی نے پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں متعلقہ اداروں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں موبائل ایس ایم ایس چارجز کا معاملہ بھی زیر غور آیا، جہاں بتایا گیا کہ ایک ایس ایم ایس کی لاگت 3 سے 3.5 روپے ہے جبکہ صارفین سے ماہانہ 180 سے 325 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ سالانہ بنیاد پر یہ رقم تقریباً 18 ارب روپے بنتی ہے جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں