طالبان کاباجوڑمیں نہتے لوگوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ فعل :شہری

 طالبان کاباجوڑمیں نہتے لوگوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ فعل :شہری

صوبائی حکومت نے صرف اعلانات کیے ، عملی طور پر موثر اقدامات نظر نہیں آئے وزیراعلیٰ پختونخوا کی توجہ مسائل کے بجائے صرف اڈیالہ جیل کی طرف مرکوز ہے

اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)باجوڑ میں افغانستان کی جانب سے گولہ باری کے واقعے پر مقامی شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بلا اشتعال جارحیت قرار دیا ہے ۔گزشتہ رات سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں باجوڑ کے تین رہائشی جاں بحق ہو گئے ، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ فعل ہے ۔ شہریوں نے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں عام آبادی کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

مقامی افراد نے صوبائی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے نمائندوں اور وزیر اعلی کی توجہ صوبائی مسائل کے بجائے صرف اڈیالہ جیل کی طرف مرکوز ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی نظر نہیں آتی اور تمام تر توجہ غیر متعلقہ معاملات پر ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے صرف اعلانات کیے ، لیکن عملی طور پر کوئی موثر اقدامات نظر نہیں آئے ۔شہریوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا، مگر افسوس کہ آج وہی ملک پاکستانی عوام پر گولہ باری کر رہا ہے ، ہم نے افغان بھائیوں کو اپنے دلوں میں جگہ دی، لیکن موجودہ صورتحال کے بعد ان سے مثبت رویے کی توقع رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں حکومت کا موثر کردار دکھائی نہیں دیتا اور عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں