ہائیکورٹ :انٹرپول ریڈ نوٹس کیس،بیوروکریسی رویہ پرجج برہم
5سال قبل مقدمہ سے بری ہونے کے باوجوددرخواست گزارکانام ریڈنوٹس میں شامل جوائنٹ سیکرٹری داخلہ آپ سینئر افسر ہیں ،ہم نہیں چاہتے آپ کا کیرئیر متاثر ہو ، ریمارکس
اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت میں زیر سماعت پانچ سال پہلے مقدمہ سے بری ہونے کے باوجود انٹرپول ریڈ نوٹس میں نام کے خلاف کیس میں عدالتی حکم پر عملدرآمد کردیاگیا۔گذشتہ روز سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ عدالت پیش ہوئے اور بتایاکہ ریڈ نوٹس سے درخواست گزار کا نام نکال دیا ہے ، جسٹس خادم حسین سومرو نے بیوروکریسی کے رویے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ سے کہاکہ آپ سینئر افسر ہیں پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہیں،ہم نہیں چاہتے آپ کا کیرئیر متاثر ہو ،آپ کی ذمہ داری ہے عدالت کے آرڈرز پر عمل کریں،ایک موقع دے رہے ہیں آپ کا نام نوٹ کر رہے آئندہ عدالتی آرڈر نہ مانا تو توہین عدالت میں سزا ہو گی،جسٹس خادم حسین سومرو نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہاکہ ہماری بڑی سیریس آبزریشنز ہیں یہ افسران آپ کے سٹیٹ کونسلز کا بھی کہنا نہیں مانتے ، سرکاری وکیل صاحب کھڑے ہوتے ہیں ہمارے سامنے یہ افسران ان کو کاغذ دے رہے ہوتے ہیں،یہ سرکاری وکیل فون بھی کرتے ہیں یہ افسران ان کا کہنا نہیں مانتے ،ان افسران میں سے ایک دو کو سزا ہو جائے تو آٹھ بجے کورٹ پہنچا کریں گے ، جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ ہم نے خود دیکھا ہے یہ کاغذ دیتے ہیں لاڑکانہ میں ایک دن پہلے یہ سرکاری وکیل بریف کرتے تھے اور یہ وفاقی دارالحکومت ہے ،تھوڑا سا تو خیال کریں،یہ سینئر ایگزیکٹو افسر ہے سی ایس ایس کرکے آئے ہوں گے ۔