وزیر صحت نے تونسہ میں ایڈز کے مریضوں کی تصدیق کر دی
50ہزار سے زائد مشتبہ افراد کی سکریننگ،334میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے کسی کی غلطی ثابت ہوئی تو احتساب ہوگا،عالمی نشریاتی ادارے کی رپورٹ یکطرفہ ہم آٹو لاک سرنج استعمال کرتے ،ہسپتالوں میں رضا کار نہیں ہوتے ،خواجہ عمران
لاہور(ہیلتھ رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے تصدیق کی ہے کہ تونسہ شریف میں 334 افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوئی جن میں 12 سال سے کم عمر 331 بچے شامل ہیں، پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں مستقل ایڈز سکریننگ جاری ہے ، اب تک 50 ہزار سے زائد مشتبہ افراد کی سکریننگ کی جا چکی ہے ،وزیرصحت وآبادی پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ان تمام مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا،عالمی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم نے آٹو لاک سرنج کا استعمال شروع کررکھا ہے ، ہمارے ہسپتالوں میں رضا کار نہیں ہوتے ، ہم تو 10 سی سی کی سرنج استعمال ہی نہیں کرتے ، ہم تو 2 سی سی اور 5 سی سی کی سرنج استعمال کرتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ایڈز کے معاملے میں پنجاب حکومت کے ملازمین میں سے کسی کی غلطی ہوئی تو احتساب ہوگا ، انہوں نے عالمی نشریاتی ادارے کی خبر کو یکطرفہ قرار دیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر فوری طور پر محکمہ صحت کی ٹیم تونسہ روانہ کی گئی جبکہ یونیسف، ڈبلیو ایچ او اور سی ایم یو پر مشتمل جوائنٹ مشن بھی تشکیل دیا گیا، اگر رپورٹ میں بے بنیاد الزامات ہوئے تو ہم قانونی حق محفوظ رکھتے ہیں صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے واضح کیا کہ سرنج کے بار بار استعمال کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، جدید سرنج ایک بار استعمال کے بعد خود لاک ہو جاتی ہے ، وزیر صحت نے کہا کہ ایڈز کے مریضوں کا ڈیٹا اس لیے عام نہیں کیا جاتا کیونکہ معاشرہ ایسے افراد کو قبول نہیں کرتا۔