درآمدی موبائل فونز پر 54 فیصد ٹیکس ہے : چیئرمین ایف بی آر ، بجٹ میں کم کریں : خزانہ کمیٹی
500 ڈالر سے مہنگے موبائل پر 76 ہزار ٹیکس ہے :راشد لنگڑیال، اگر سیلز ٹیکس عائد ہے تو انکم ٹیکس نہیں ہونا چاہیے :کمیٹی ارکان نوید قمر کی زیر صدارت اجلاس ، سپیشل اکنامک زونز ترمیمی بل، امپورٹ ایکسپورٹ بینک ترمیمی بل ، پارلیمانی بجٹ آفس بل منظور
اسلام آباد (نمائندہ دنیا)چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ درآمدی موبائل فونز پر 54 فیصد ٹیکس عائد ہے جس پرقومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی نے آئندہ بجٹ میں درآمدی موبائل فونز پر ٹیکسز میں کمی کی سفارش کر دی۔کمیٹی نے خصوصی اقتصادی زونز ترمیمی ایکٹ، امپورٹ ایکسپورٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2026 اور پارلیمانی بجٹ آفس بل 2025 کی بھی منظوری دے دی۔ نوید قمر کی زیر صدارت خزانہ کمیٹی کا اجلاس ہو ا جس میں کہاگیا کہ موبائل فونز پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی شرح زیادہ ہے ۔ اگر موبائل فونز پر سیلز ٹیکس عائد ہے تو انکم ٹیکس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ۔ چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بریفنگ میں بتایا کہ 500 ڈالر سے مہنگے موبائل فونز پر 76 ہزار روپے ٹیکس عائد ہے جبکہ ان پر مجموعی ٹیکس شرح 54 فیصد تک پہنچ جاتی ہے ۔ 700 سے 750 ڈالر مالیت کے فونز پر ٹیکس کی شرح 55 فیصد ہے ۔حکام کے مطابق فی الحال 18 فیصد جی ایس ٹی یا ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی گنجائش نہیں۔
ٹیکس پالیسی آفس نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔ مہنگے درآمدی فونز پر 18 فیصد جی ایس ٹی اور ساڑھے 11 ہزار روپے ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہے ، جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ فونز پر ٹیکس شرح کم ہو کر 25 فیصد رہ جاتی ہے ۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ بجٹ میں موبائل فونز کی ٹیکس پالیسی واضح طور پر پیش کی جائے ۔اجلاس میں سرمایہ کاری بورڈ نے خصوصی اقتصادی زونز ترمیمی ایکٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارہ 2035 تک مراعات ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2028 سے پائلٹ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ اگر اہداف حاصل ہوئے تو مراعات جاری رکھنے کی درخواست کی جائے گی بصورت دیگر 2035 کے بعد مراعات ختم کر دی جائیں گی۔حکام کے مطابق سات ہزار ایکڑ زمین خصوصی اقتصادی زونز کے لیے مختص ہے جبکہ سرمایہ کاروں کو ایک ہزار ایکڑ تک زمین لیز پر دی جا سکتی ہے ۔ ان زونز کی مراعات خصوصی ٹیکنالوجی زونز اور برآمدی پروسیسنگ زونز پر بھی اثر انداز ہوں گی۔
قائمہ کمیٹی نے خصوصی اقتصادی زونز ترمیمی ایکٹ، امپورٹ ایکسپورٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2026 اور پارلیمانی بجٹ آفس بل 2025 کی منظوری دے دی۔وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بریفنگ میں بتایا کہ پارلیمانی بجٹ آفس ایک سٹیئرنگ کمیٹی کے تحت کام کرے گا اور بجٹ و ٹیکس پالیسی پر سفارشات دے گا۔ کمیٹی ارکان نے تجویز دی کہ بجٹ آفس میں منتخب نمائندے شامل ہوں جبکہ چیئرمین نوید قمر نے کہا کہ نمائندگی متوازن رکھی جائے گی۔امپورٹ ایکسپورٹ بینک پر بریفنگ میں سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ بینک نے کئی پورٹ فولیو ٹیک اوور کیے ہیں اور اب برآمدی شعبے کے لیے مرکزی کردار ادا کرے گا۔ حکام کے مطابق ایکسپورٹرز کو ایک کھرب روپے کی فنانسنگ فراہم کی جا رہی ہے ۔ قائمہ کمیٹی نے امپورٹ ایکسپورٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل بھی منظور کر لیا۔