سرکاری بھرتیوں میں معذوروں کا 3 فیصدکوٹہ آئینی،قانونی تقاضا قرار

 سرکاری بھرتیوں میں معذوروں کا 3 فیصدکوٹہ آئینی،قانونی تقاضا قرار

چیف سیکرٹری پنجاب فیصلہ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں:لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت معذوروں کو روزگار فراہم کرنا خیرات نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق :جسٹس راحیل کامران

لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد کو 3 فیصد کوٹہ دینا آئینی اور قانونی تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر عملدرآمد لازمی ہوگا،عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ یہ فیصلہ تمام متعلقہ محکموں تک فوری طور پر پہنچائیں اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔عدالت نے دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ سرکاری بھرتیوں میں معذور افراد کو نمائندگی دینا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اور اس کوٹہ سے محرومی امتیازی سلوک اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ،معذور افراد کو روزگار فراہم کرنا خیرات نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے ۔عدالت نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ پنجاب ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2022 ئپر مکمل عملدرآمد ضروری ہے ،عدالت نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ معذور کوٹہ کے تحت نئی بھرتیوں کا عمل فوری طور پر شروع کرے اور اس بارے تازہ اشتہار جاری کرے ، آئندہ تمام بھرتیوں میں 3 فیصد کوٹہ ہر صورت یقینی بنایا جائے ،کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، سرکاری اشتہارات میں کوٹہ شامل نہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے ، اشتہارات کو اخبارات، ویب سائٹس اور دیگر ذرائع سے وسیع پیمانے پر مشتہر کیا جائے ،عدالت نے قرار دیا کہ معذور افراد کے حقوق کو نظر انداز کرنا آئین کے تحت ناقابل قبول ہے اور ان کی معاشی و سماجی خودمختاری کیلئے روزگار تک رسائی بنیادی حیثیت رکھتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں