اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں،ٹرمپ کاوفد بھیجنے کا اعلان:ایران نے شرکت کا فیصلہ نہیں کیا:سرکاری میڈیا وزیراعظم کی ایرانی صدر سے45منٹ گفتگو اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ

اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں،ٹرمپ کاوفد بھیجنے  کا  اعلان:ایران نے شرکت کا فیصلہ  نہیں  کیا:سرکاری  میڈیا  وزیراعظم کی ایرانی صدر سے45منٹ گفتگو اسحاق ڈار  کا عباس  عراقچی سے  رابطہ

امریکی ایڈوانس ٹیم کی اسلام آبادآمد،مذاکرات کار آج آئیں گے ،خودبھی پاکستان جا سکتاہوں ،واشنگٹن مناسب اور معقول معاہدہ پیش کر رہا ہے ، جسے قبول نہ کرنے کی صورت میں ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں :امریکی صدر امریکا کے غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات،موقف میں بار بار تبدیلی، پابندیاں، بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور دھمکی آمیز بیانات مذاکراتی عمل میں رکاوٹ،آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے تک ایران مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا:میڈیا ذرائع مسعود پزشکیان سے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر دوستانہ اور تعمیری گفتگو ہوئی :شہباز شریف،اسحاق ڈار اور مصری ہم منصب کا بھی رابطہ ،اسلا م آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ ، ریڈ زون اور اہم شاہراہوں پراہلکارتعینات،میٹروبس سروس جزوی بند

اسلام آباد (نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)اسلام آباد ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو یقینی بنانے کیلئے ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی ٹیم اسلام آباد بھیجنے اور آئندہ دنوں میں خود پاکستان آنے کا عندیہ دیا ہے ، تاہم ایران نے تاحال شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’ارنا‘‘نے پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط قرار دیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات، مؤقف میں بار بار تبدیلی، پابندیاں، بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور دھمکی آمیز بیانات مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جس کے باعث بامعنی پیش رفت کے امکانات کمزور دکھائی دیتے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے دیگر ذرائع بشمول تسنیم اور فارس نیوز ایجنسی نے بھی مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے شکوک و شبہات ظاہر کئے ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق جب تک آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی برقرار ہے ، ایران مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔ ایک ایرانی سفارتی ذریعے نے بھی عندیہ دیا کہ پیر کو مذاکرات کا انعقاد ممکن نہیں اور تاحال کسی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوا۔دوسری جانب امریکی میڈیا نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم منگل کو اسلام آباد پہنچ سکتی ہے تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق اگر حالات سازگار رہے تو بدھ کو جنگ بندی میں توسیع کا علامتی اعلان بھی متوقع ہے جبکہ امریکی اور ایرانی صدور کی ممکنہ ملاقات اور مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران پر آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایران کا اس گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان غیر معمولی ہے کیونکہ امریکی ناکہ بندی کے باعث یہ پہلے ہی متاثر ہے ۔

ان کے مطابق اس صورتحال سے ایران کو یومیہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ امریکا کو کوئی نمایاں نقصان نہیں پہنچ رہا۔ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ واشنگٹن ایک مناسب اور معقول معاہدہ پیش کر رہا ہے ، بصورت دیگر ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ، اب مزید نرمی نہیں برتی جائے گی۔اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو جوکچھ کرنا پڑا وہ کرنا میرے لئے اعزاز ہوگا، وہ کام پچھلے 47 سالوں میں دوسرے صدور کو ایران کے ساتھ کرنا چاہیے تھا، اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کی کلنگ مشین کو ختم کیا جائے ۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک سے دو روز میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے ، تاہم اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے ،ان کاکہناتھاکہ آنے والے دنوں میں وہ خود بھی پاکستان جاسکتے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈکشنرمذاکرات میں شرکت کریں گے جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس بھی وفد کی قیادت کر سکتے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق امریکی ایڈوانس ٹیم کے خصوصی طیارے نور خان ایئر بیس پہنچ چکے ہیں، جن میں لاجسٹک سامان، بلٹ پروف گاڑیاں اور ایمبولینس شامل ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہائی الرٹ نافذ ہے ، ریڈ زون سیل کر کے اہلکاروں کو تعینات کردیاگیا ہے جبکہ اہم شاہراہوں پر ٹریفک محدود اور میٹرو بس سروس جزوی طور پر معطل ہے ،مہمانوں کو2ہوٹلوں میں ٹھہرایا جائیگا جس کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں ۔سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کر کے مذاکرات اور مسلسل سفارتی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔اسحاق ڈار کا مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا، دونوں رہنماؤں نے غزہ سمیت خطے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اورایران، امریکا کے آئندہ مذاکراتی دور کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف اورایرانی صدرمسعود پزشکیان کے درمیان تقریباً 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے ایران کی جانب سے گزشتہ مذاکرات میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے خطے میں امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ ایرانی صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔وزیراعظم نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا۔شہبازشریف نے کہاکہ یہ روابط خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے مذاکرات اور سفارتکاری کے عمل کے حق میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوئے ہیں۔وزیراعظم نے اس ہفتے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی تعمیری بات چیت پر بھی شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔

اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا امن کی کوششوں میں پاکستان کے مضبوط عزم پر شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید مستحکم ہوں گے ۔بعدازاں شہباز شریف نے ایک ایکس پیغام میں کہاکہ مسعود پزشکیان سے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر دوستانہ اور تعمیری گفتگو ہوئی اورایرانی صدر کو یقین دلایا کہ دوست ممالک اور شراکت داروں کی حمایت سے پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے ایک مخلص اور غیر جانبدار سہولت کار کے طور پر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امن کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے دفاع کے حق پر زور دیا جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن اب بھی فاصلہ باقی ہے ۔ایرانی رہنماؤں نے امریکی ناکہ بندی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ ایرانی فوجی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو یہ بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے ۔مجموعی طور پر اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات موجود ہیں، تاہم ایران کی غیر یقینی پوزیشن کے باعث صورتحال تاحال واضح نہیں اور حتمی شیڈول سامنے نہیں آ سکا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں