دوسرا دور:امریکا، ایران مذاکرات کیلئے پس پردہ سرگرمیاں عروج پر
فریقین کے ایک دوسرے پر تحفظات ،پاکستان کی غیر جانبدارانہ پوزیشن کی تائید
(تجزیہ:سلمان غنی)
امریکا، ایران میں جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پس پردہ سرگرمیاں عروج پر ہیں،امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اپنے نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر نمائندوں کے اسلام آباد پہنچنے کا عندیہ دے چکے البتہ ایران کی جانب سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آ رہا ، اس حوالے سے پاکستان کی بھرپور کوششیں جاری ہیں ۔ امریکی وفد کی آمد بارے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایران کی آمادگی سے ہی مشروط ہو گا اور ایران کاحتمی اعلان آ ج ہو سکتا ہے ، ویسے تو دونوں ملکوں کی سکیورٹی ٹیمیں اسلام آباد پہنچ چکی ہیں لہذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ امریکا نے اعلان کیوں کیا اور ایران کے تحفظات کیا ہیں،مذاکرات کب تک ممکن اور کامیابی کے امکانات کتنے ہیں۔ امریکا کی جانب سے وفد بھیجنے کے اعلان کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کی ایران کو سمجھوتہ نہ کرنے پر نتائج بھگتنے کی دھمکی کا مطلب ہے کہ امریکا مذاکرات کے ساتھ دباؤبھی برقرار رکھنا چاہتا ہے ، دوسری جانب ایران کے شدید تحفظات ہیں اور پاسداران انقلاب نے انتہا پسندانہ رویہ اختیار کر لیا جس سے اعتدال پسندوں پربھی دباؤ آ گیا، اب ایران میں مذاکراتی عمل بارے کنفیوژن دیکھنے میں آ رہی ہے مگر اطلاعات یہی ہیں کہ ایران کو مذاکراتی عمل پر آنا ہی پڑے گا۔
اس حوالے سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورے کا کردار اہم ہے ، ذمہ دار ذرائع مضر ہیں کہ ایک دو دن کی تاخیر توہو سکتی ہے مگر ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا،ویسے تو اسلام آباد میں مذاکراتی عمل بارے تیاری کل منگل اور بدھ کے روز کی ہے لیکن جہاں تک مذاکرات کی کامیابی کا سوال ہے تو یہ پاکستان کیلئے اصل چیلنج ہے ، پاکستان کی کوششوں کے پیچھے اور بہت سے ممالک اور قوتیں بھی ہیں ، خود امریکا بھی چاہتا ہے اسے فیس سیونگ ملے اور مذاکرات بھی کامیاب ہوں ، عالمی را ئے عامہ بھی جنگ مخالف نظر آرہی ہے اور اسی بنیاد پر دنیا پاکستان کے پیچھے کھڑی ہے ،جہاں تک ایرانی حکمت عملی کا سوال ہے تو باوجود شدید جانی و مالی نقصان کے ایران سمجھتا ہے کہ اس کے شدید ردعمل سے اسکی سیاسی پوزیشن بنی اور پاسداران انقلاب کا فیصلہ سازی میں کردار بڑھا ، اب نئی پیدا شدہ صورتحال میں ایران میں کنفیوژن کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اعتدال پسند مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کو تیار ہیں مگر دوسرے اس سے انحراف پر گامزن ہیں لیکن غالب امکان یہی ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا ، ایران سمجھتا ہے پاکستان کی ثالثی میں ان کے مفادات کا تحفظ ہو گا۔
جہاں تک مذاکرات کی نتیجہ خیزی کا سوال ہے تو فی الحال تو بات جنگ بندی کو مستقل قرار دینے اور بات چیت کو چلانے تک لگتی ہے ، تناؤکی صورتحال میں کسی بریک تھرو کا امکان نظر نہیں آ رہا ، پاکستان بھی چاہتا ہے کم از کم جنگ بندی قائم رہے اور مذاکراتی عمل چلتا رہے ۔ گزشتہ رات پاکستان کے ایرانی لیڈر شپ سے رابطوں کی اطلاعات ہیں وہ مذاکراتی عمل میں مشروط شرکت چاہتے ہیں لیکن پاکستان شرائط ماننے کی پوزیشن میں نہیں ، اطلاعات ہیں کہ ایرانی لیڈر شپ مذاکرات پر آمادہ ہے مگر ابھی اعلان کرنے سے گریزاں ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا نے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت کا اعلان کر کے ایران کو مشکل میں ڈال دیا،ایران میں یکسوئی کا فقدان رہے گا اور یہ عمل مذاکرات کی نتیجہ خیزی پر اثر انداز ہو گا البتہ پاکستان کی کوشش ہے کہ فریقین میں کم از کم نکات پر معاہدہ ہو اور پاکستان دنیا کے سامنے سرخرو ہو ، اسی بنا پر ہی اب پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کیلئے امن کے نوبل انعام کا مطالبہ زور پکڑتا نظر آ رہا ہے ،دلچسپ بات یہ ہے کہ فریقین ایک دوسرے بارے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں لیکن پاکستان کی غیر جانبدارانہ پوزیشن اور ثالثی عمل کی تائید کر رہے ہیں۔