قرض پروگرام : پاکستان نے IMF کے 13 اہداف حاصل کرلیے، 4 رہ گئے

قرض پروگرام : پاکستان نے IMF کے 13 اہداف حاصل کرلیے، 4 رہ گئے

ایف بی آر ریٹیلرز سے انکم ٹیکس وصولی،5 لاکھ نئے فائلرز کے ہدف سے متعلق ڈیٹا عالمی ادارے کو فراہم کرنے میں ناکام رہا سٹیٹ بینک کے منفی 6.99ارب ڈالر ذخائر کا ہدف مکمل، بجٹ خسارہ 3156ارب رہ سکتا، 1.2ارب ڈالر مئی میں ملنے کا امکان

 اسلام آباد (مدثر علی رانا) پاکستان نے آئی ایم ایف قرض پروگرام کے تحت دسمبر 2025 تک مقرر کردہ 17میں سے 13 مقداری اہداف حاصل کر لیے جبکہ 2 اہداف مکمل نہ ہو سکے اور 2 اہداف سے متعلق ڈیٹا آئی ایم ایف کو فراہم نہیں کیا جا سکا۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر ریٹیلرز سے انکم ٹیکس وصولیوں اور 5 لاکھ نئے ٹیکس فائلرز کے ہدف سے متعلق مطلوبہ ڈیٹا فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف عملے نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو بورڈ کو پیش کر دی ہے ، جس کی بنیاد پر مئی 2026 میں 1.2 ارب ڈالر کی چوتھی قسط کی منظوری متوقع ہے ۔ یہ قسط 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور آر ایس ایف پروگرام کا حصہ ہے ۔اسٹیٹ بینک کے خالص بین الاقوامی ذخائر کا ہدف جو منفی 6.99 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا، کامیابی سے حاصل کر لیا گیا۔ اسی طرح مرکزی بینک کے نیٹ ڈومیسٹک اثاثوں کی حد 15016 ارب روپے اور غیر ملکی کرنسی سواپ و فارورڈ پوزیشنز کی حد منفی 1.86 ارب ڈالر بھی مقررہ حدود میں رہیں۔ حکومت کے بنیادی بجٹ خسارے کی حد بھی مقررہ ہدف کے اندر رہی۔

مجموعی حکومتی ضمانتیں 4542 ارب روپے تک محدود رہیں، جبکہ صوبائی حکومتوں کی ٹیکس وصولیاں 568 ارب روپے رہیں اور یہ ہدف بھی حاصل کر لیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے حکومت کو قرض فراہمی صفر رہی جبکہ بیرونی ادائیگیوں کے بقایاجات بھی کنٹرول میں رکھے گئے ۔ ٹیکس ریفنڈز اور پاور سیکٹر کے واجبات کے حوالے سے بھی طے شدہ حدود کی پاسداری کی گئی۔دوسری جانب کئی اہم مالیاتی اور معاشی اہداف کے حصول کے لیے مزید 17 اہداف کی جون 2026 تک ڈیڈ لائن مقرر ہے ۔ مرکزی بینک کے خالص زرمبادلہ ذخائر کا ہدف منفی 4.8 ارب ڈالر سے نظرثانی کے بعد منفی 4.4 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے ، جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران یہ کم ہو کر 2 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔

رواں مالی سال کے لیے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ بجٹ خسارہ 3 ہزار 156 ارب روپے تک محدود رکھا جائے گا، جبکہ مارچ 2027 تک اسے کم کر کے 2 ہزار 978 ارب روپے تک لانے کا ہدف مقرر ہے ۔ حکومتی گارنٹیوں کا حجم 5800 ارب روپے تک محدود رکھنے اور رواں مالی سال کے اختتام تک 10 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز میں اضافے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے جبکہ مارچ 2027 تک مزید 7 لاکھ 50 ہزار نئے ریٹرنز شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ ذرائع کیمطابق آئی ایم ایف عملے نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو بورڈ کو پیش کر دی جس کی بنیاد پر مئی 2026 میں 1.2 ارب ڈالر کی چوتھی قسط کی منظوری متوقع ہے یہ قسط 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور آر ایس ایف پروگرام کا حصہ ہے ۔حکام کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان نے بیشتر مقداری اہداف حاصل کر لیے ہیں جو پروگرام کے تسلسل کے لیے مثبت اشارہ ہے تاہم ٹیکس وصولیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے شعبے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں