پاور ڈویژن کی 25کلو واٹ تک سولر صارفین کیلئے فیس،لائسنس ختم کرنے کی سفارش
پاور ڈویژن نے نیپرا کو 25 کلو واٹ سے کم سولر صارفین کیلئے 2015 کے ضوابط بحال کرنے کیلئے کہہ دیا موجودہ طریقہ کار قومی سطح پرقابلِ تجدیدتوانائی کوفروغ دینے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا :اعلامیہ
اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں )وفاقی وزیرِ توانائی اویس احمد لغاری کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے نیپرا سے 25 کلو واٹ سے کم سولر صارفین کیلئے فیس ختم کرنے اور لائسنس کی ضرورت نہ ہونے کیلئے نظرِ ثانی کی سفارش کردی،پاور ڈویژن نے پہلے بھی اس فیصلے کے مضر اثرات پر نیپرا کو آگاہ کیا تھا اور اسے پرانے ریگولیشنز کے مطابق کرنے کی درخواست کی تھی۔2015 کے پرانے ضوابط کے تحت 25 کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کے نظاموں کیلئے نیپرا سے لائسنس کی ضرورت نہیں تھی ،اس زمرے کی درخواستیں براہِ راست تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے بغیر کسی فیس کے پروسیس کی جاتی تھیں جو گھریلو صارفین کیلئے بڑی مالی ترغیب کا باعث تھی تاہم نئے "پروزیومر ریگولیشنز2026"نے چھوٹے پلانٹس کیلئے بھی منظوری کا اختیار نیپرا کو دے دیا اور ان پر فیس عائد کر دی ۔پاور ڈویژن نے بتایا کہ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی)نے بھی اس تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور نیپرا سے مطالبہ کیا تھا کہ 25 کلوواٹ یا اس سے کم کے نظاموں کیلئے پرانے منظوری والے نظام کو برقرار رکھا جائے ۔ علاوہ ازیں عوامی سماعت کے دوران پاکستان سولر ایسوسی ایشن پریمیج (پرائیویٹ)لمیٹڈ، پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن اور صدیق رینیوایبل انرجی (پرائیویٹ)لمیٹڈ نے بھی باضابطہ طور پر ان تبدیلیوں پر اعتراض کیا تھا۔ وزیرِ توانائی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے پاور ڈویژن نے اب نیپرا سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ 25 کلوواٹ یا اس سے کم کے نظاموں کیلئے پرانے طرزِ عمل کو بحال کیا جائے ۔موجودہ طریقہ کار قومی سطح پرقابلِ تجدیدتوانائی کوفروغ دینے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے ۔