غیر متوازن ٹیکس نظام ڈیری شعبہ کی ترقی میں رکاوٹ ، رانا تنویر

غیر متوازن ٹیکس نظام ڈیری شعبہ کی ترقی میں رکاوٹ ، رانا تنویر

غذائی تحفظ ،بچوں کی نشوونما جیسے سنگین مسائل ، پالیسیوں میں نرمی کرنا ہوگی محفوظ دودھ کیلئے جامع پالیسی ترتیب ، جی ایس ٹی میں نمایاں کمی کرنا ہوگی ، ماہرین

 اسلام آباد (نامہ نگار )وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں ڈیری شعبے پر غیر متوازن ٹیکس نظام نہ صرف اس صنعت کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے بلکہ غذائی تحفظ اور بچوں کی نشوونما جیسے سنگین مسائل کو بھی بڑھا رہا ہے ،حالیہ ٹیکس پالیسیوں کے نتیجے میں رسمی ڈیری شعبہ سکڑ رہا ہے ، دیہی سطح پر دودھ جمع کرنے کے مراکز بند ہو رہے ہیں اور محفوظ دودھ تک عوام کی رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے جس کے تدارک کے لئے جامع پالیسی، سرمایہ کاری کے فروغ جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اور پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پری بجٹ مشاورتی اجلاس میں ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں نے اس امر پر زور دیا کہ دودھ کو بنیادی غذائی ضرورت تسلیم کرتے ہوئے اس پر عائد 18 فیصد جی ایس ٹی میں نمایاں کمی، ٹیکس ڈھانچے میں اصلاحات، ڈیری شعبے کی دستاویزی تشکیل اور محفوظ و معیاری دودھ کی فراہمی کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ مویشی بانی کا شعبہ زرعی معیشت کا تقریبا 60 فیصد حصہ ہے اور اس میں ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کے بے پناہ امکانات موجود ہیں انہوں نے کہا کہ محفوظ دودھ کیلئے جامع پالیسی، سرمایہ کاری کے فروغ جیسے اقدامات کی ضرورت ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں