عدالتی اصلاحات کیلئے بار اور بینچ میں مکالمہ ناگزیر : چیف جسٹس

 عدالتی اصلاحات کیلئے بار اور بینچ میں مکالمہ ناگزیر : چیف جسٹس

نوجوان وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت ایجنڈے کا اہم حصہ:جسٹس یحییٰ آفریدی، مشاورتی اجلاس ہڑتال کی کال صرف پاکستان بار کونسل کا اختیار:مسعود چشتی، اجلاس کے بعد پریس کانفرنس

اسلام آباد (اے پی پی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کو مزید موثر، شفاف اور عوامی توقعات سے ہم آہنگ بنانے کیلئے بار اور بینچ کے درمیان مسلسل اور بامعنی مکالمہ ناگزیر ہے ۔ نوجوان وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے ۔ سپریم کورٹ کے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز کے وائس چیئرمینوں اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمینوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کے دوران کہی۔ اجلاس میں پاکستان بار کونسل سمیت پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد اور آزاد کشمیر بار کونسلز کی قیادت نے شرکت کی۔ بار نمائندگان نے عدالتی اصلاحات کے اقدامات کو سراہا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی نظام میں بہتری کیلئے صرف انتظامی اقدامات کافی نہیں، قانونی برادری کی فعال شمولیت بھی ضروری ہے ۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے تحت جاری کنٹینیوئنگ لیگل ایجوکیشن پروگرامز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب بنایا گیا، آن لائن کورسز بار کونسلز کے ساتھ شیئر کیے گئے ، فزیکل تربیتی پروگرامز بھی جاری رہیں گے ، جولائی میں سندھ کے وکلا کیلئے خصوصی تربیتی سیشن منعقد کیا جائے گا۔ بار نمائندگان نے ڈگریوں کی تصدیق، ججز کے تبادلوں کے طریقہ کار اور ایک جیسے مقدمات میں متضاد عدالتی فیصلوں جیسے امور کی نشاندہی کی۔ چیف جسٹس نے کہا ایسے معاملات کو مناسب فورمز پر لے جانے کیلئے لا اینڈ جسٹس کمیشن کو بھیجا جائے تاکہ موثر جائزہ لیا جا سکے ۔

ادھر پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام بار کونسلز کا اجلاس ہوا جس میں تمام صوبائی بار کونسلز کے وائس چیئرمینوں اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وکلا پروٹیکشن سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کے امور زیر بحث آئے اور عدالتی نظام میں بہتری کیلئے متعدد نکات پر اتفاق کیا گیا۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا جائزہ لیا گیا۔ ججز کے تبادلوں اور ضلعی عدلیہ کے معاملات پر بھی مشاورت کی گئی، شرکا نے عدالتی نظام میں تسلسل اور استحکام کو اہم قرار دیا۔پیر مسعود چشتی نے کہا ہڑتال کی کال دینے کا اختیار صرف پاکستان بار کونسل کے پاس ہے ۔ رکن جوڈیشل کمیشن احسن بھون نے گفتگو کرتے ہوئے کہا سوشل میڈیا پر کردار کشی کے معاملات پر موثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اگر کوئی وکیل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ آئینی ترامیم کے حوالے سے پارلیمان کو اختیار حاصل ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں