بری امام آپریشن زمین واگزار کیلئے :طلال، طریقہ بدلیں:طارق فضل
آپریشن قانونی ہے ،متاثرہ افراد کو متبادل زمین اور معاوضہ دیا جا چکا ہے :وزیر مملکت مقامی لوگوں کو قابضین نہیں متاثرین کہا جائے :وزیر پارلیمانی امور،سینیٹ میں خطاب
اسلام آباد(اپنے رپورٹر سے ) وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چودھری نے سینیٹ میں واضح کیا کہ بری امام آپریشن کسی کے خلاف نہیں بلکہ سرکاری زمین واگزار کرانے کیلئے کیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق بری امام اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں ایف فور سیکٹر ہے۔ متاثرہ افراد کو پہلے ہی متبادل زمین اور معاوضہ دیا جا چکا ہے ۔ بری امام سمیت چار دیہات سی ڈی اے کے زیر انتظام لیے گئے تھے اور متاثرین کو آئی نائن میں 101 پلاٹس بھی دئیے گئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی مکمل قانونی تقاضوں کے تحت اور نوٹس کے بعد کی گئی ۔دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل نے سینیٹ میں کہا کہ بری امام سمیت کچی آبادیوں سے متاثرین کی بے دخلی کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کو پہلے متبادل رہائش اور معاوضہ فراہم کیا جانا چاہیے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بری امام کی آبادی تاریخی حیثیت رکھتی ہے اور متاثرین کے ساتھ منصفانہ سلوک ریاست کی ذمہ داری ہے ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ بری امام کی اصل آبادی 10 فیصد سے بھی کم ہے ۔ مسلم کالونی میں باہر سے آئے افراد نے قبضہ کر رکھا ہے ۔بری امام کے اصل مکین 600 سال سے یہاں آباد ہیں ۔مقامی لوگوں کو قابضین کے بجائے متاثرین اسلام آباد کہا جائے ۔ ریاست ماں ہوتی ہے ، متاثرین کی بے دخلی کا طریقہ کار بدلا جائے ۔