متوازن مصالحتی کردارنے پاکستان کی دنیا میں اہمیت بڑھائی
امریکا ہمیں صرف سکیورٹی نہیں علاقائی استحکام کے شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا
(تجزیہ:سلمان غنی)
امن و استحکام کے لئے پاکستان کے کردار کے حوالے سے امریکا کی جانب سے ستائش کا سلسلہ جاری ہے ، امریکی صدر ٹرمپ یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ مذاکراتی عمل کے دوران پاکستان نے امریکا کو جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ جنگوں کی بجائے سفارتی عمل کس حد تک موثر اور نتیجہ خیز ہوگا اور آنے والے حالات میں کیا دنیا پاکستان کی جانب سے اختیار کئے جانے والے طرز عمل اور طریقہ کار پر گامزن ہو پائے گی ۔ پاکستان کے اس مثبت طرز عمل کے اثرات دنیا پر کتنے ظاہر ہوئے ۔بلاشبہ امریکا ایران کشیدگی اور تناؤ کی صورتحال میں پاکستان نے توازن پر مبنی مصالحتی کردار نبھایا ہے ،پاکستان نے اس عمل میں ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات بھی برقرار رکھے جبکہ دوسری طرف امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے روابط کے ذریعے انہیں جنگ بندی اور مذاکرات پر آمادہ بھی کیا۔ یہ توازن پا کستان کے لئے آسان نہ تھا کیونکہ ہر فریق اپنے لئے حمایت چاہتا تھا پاکستان نے دنیا پر واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے اثرات پورے خطے خصوصاً پاکستان کی معیشت، توانائی، تجارت اور داخلی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں لہٰذا ڈائیلاگ ہی بہتر حل ہے۔
چین، سعودی عرب، ترکیہ اور یورپی و مغربی حلقے ایسے ممالک کو اہم سمجھتے ہیں جو کشیدگی کم کر سکیں ، عالمی حلقوں نے پاکستان کے کردار کو اسی لئے سراہا کہ اس نے خطے کو جنگ سے بچانے کیلئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا بٹھایا اور معاملات کو آگے کی طرف چلایا ۔ دوسری جانب افغانستان اب بھی امریکا کے لئے مکمل طور پر بند باب ہے ، دہشت گردی ،داعش خراسان اور علاقائی عدم استحکام کے خدشات برقرار ہیں، امریکا سمجھتا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغان معاملات میں موثر حکمت عملی مشکل ہے ،ویسے بھی دہشت گردی کے سدباب کے لئے اقدامات کے عمل نے دنیا میں پاکستان کی اہمیت بڑھائی ہے ،خود امریکی حلقے بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان داخلی استحکام اور شدت پسندی کے خلاف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے ، پاکستان کی بڑی اہمیت اس کی نیو کلیئر حیثیت ہے ،امریکا ہمیشہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی و سیاسی استحکام برقرار رہے تاکہ خطے میں بڑا بحران طاری نہ ہو، امریکا پاکستان سے اچھے تعلقات بھی چاہتا ہے اس لئے وہ پاکستان سے دوری کی بجائے اس سے ورکنگ ریلیشن شپ برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان مکمل طور پر ایک بلاک تک محدود نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ امریکا پاکستان کو صرف سکیورٹی تناظر میں نہیں علاقائی استحکام کے شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے ۔