پراپرٹی ویلیو یشن پرٹیکس محتسب کے ازخود نوٹس،ایف بی آر کی درخواست پرصدرکونوٹس

پراپرٹی ویلیو یشن پرٹیکس محتسب  کے ازخود نوٹس،ایف بی آر کی  درخواست پرصدرکونوٹس

اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف بی آر کے جائیدادوں کی ویلیویشن کے معاملات میں ٹیکس محتسب کے ازخود نوٹس اور صدرِ پاکستان کے فیصلہ کے خلاف 43 ازخود نوٹس کیسز میں صدرِ پاکستان بذریعہ سیکرٹری اور وفاقی ٹیکس محتسب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے ایف بی آر کی درخواست پرسماعت کی، ایف بی آر نے وکیل حافظ احسان کھوکھر کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائررٹ پٹیشن میں ایف بی آر کی صدارتی حکم نامے کو کالعدم قرار دینے کی استدعاکی گئی ، درخواست میں صدرِ پاکستان بذریعہ سیکرٹری ، وفاقی ٹیکس محتسب اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیا کہ وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے 23 مختلف کیسز میں اپنی سفارشات جاری کیں،ایف ٹی او نے غیر قانونی طور پر رئیل اسٹیٹ کی ویلیویشن اور پالیسی سازی کے معاملات میں مداخلت کی،ایف ٹی او آرڈیننس 2000 کی دفعہ 9(2) کے تحت ٹیکس اسیسمنٹ اور پالیسی امور محتسب کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں،صدرِ پاکستان نے اپنے حکم میں تسلیم کیا کہ ایف ٹی او کا دائرہ اختیار نہیں تھا،دوسری طرف صدر نے قرار دیا کہ ایف ٹی او کے دائرہ اختیار پر عائد قانونی پابندی حتمی نہیں ،ایف ٹی او کی سفارشات اختیارات کا ناجائز استعمال کے زمرے میں نہیں آتیں، استدعا ہے عدالت ایف ٹی او کی سفارشات اور ان پر عملدرآمد کے لیے جاری کردہ تمام نوٹسز کو غیر قانونی قرار دے ۔ عدالت نے 43 ازخود نوٹس کیسز میں صدرِ پاکستان اور وفاقی ٹیکس محتسب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں