بنوں:پولیس چوکی پر دہشتگرد حملہ،15شہادتیں:وزیراعظم کا وزیراعلیٰ آفریدی سے رابطہ،ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی
خودکش کارحملے کے بعد دہشتگرد چوکی میں گھس گئے ،فائرنگ ،ڈرون اور کواڈ کاپٹرزکا استعمال ،5اہلکارزخمی ،3کو زندہ نکال لیاگیا دہشتگردوں کیساتھ انکے سرپرستوں کو بھی نشانہ بنائینگے :صدرزرداری،شہید اہلکاروں کی قربانیوں کو یاد رکھا جائیگا:محسن نقوی
بنوں ،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر خودکش کار حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید اور پانچ زخمی ہوگئے ،3اہلکاروں کو ملبے سے زندہ نکال لیاگیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے رابطہ کرکے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا حکومت کو ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی کے نتیجے میں پولیس چیک پوسٹ کو نقصان پہنچا ، جہاں 29 اہلکار تعینات تھے ، ملبے کو ہٹانے اور لوگوں کو نکالنے کیلئے آپریشن جاری ہے ۔شہداء میں رحمت ایاز، ثنا اللہ، نیاز علی، صہیب، سعداللہ، کامران ، نعمت اللہ، کامران، عابد جانی، عمران، نعیم اللہ، صدیق اللہ، میر عالم خان، راحت اللہ خان اور فاروق داد شامل ہیں۔ایک سینئر پولیس افسر نے عالمی خبررساں ادارے کو بتایاکہ واقعہ ہفتہ کی رات بنوں کے علاقے میں فتح خیل چوکی پر پیش آیا جس میں بارود سے بھری ایک گاڑی کو چوکی کے ساتھ ٹکرایا گیا ، چوکی کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اس کے بعد کئی گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی۔ چوکی کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے کے بعد متعدد دہشت گرد اندر گھس گئے اور شدید فائرنگ کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے حملے میں ایک ڈرون کا استعمال بھی کیا۔بنوں کے ایک سینئر انتظامی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آوروں نے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ کواڈ کاپٹرز بھی استعمال کئے ۔حملہ آور چوکی میں موجود اسلحے کے علاوہ ایک پولیس اہلکار کو بھی ساتھ لے گئے ۔ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان نے رات گئے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔ان کا میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ دہشت گردوں کی آخری بزدلانہ کارروائی ثابت ہوگی۔
بنوں پولیس دہشت گردوں کو چن چن کر انجام تک پہنچائے گی اور علاقے سے ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اوربنوں میں پولیس چوکی پر ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے درجات کی بلندی کی دعا کی اور شہدا کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہیں، دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت کو ہر ممکن معاونت فراہم کریں گے ۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف خیبرپختونخوا کی نہیں بلکہ پورے ملک کی جنگ ہے ، دہشتگردی سے متاثرہ ہر خاندان کے ساتھ خیبر پختونخوا حکومت کھڑی ہے ۔گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ دہشتگرد صوبے کے امن اور انسانیت کے دشمن ہیں، خیبرپختونخوا پولیس بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کر رہی ہے ۔صدر آصف علی زرداری نے بنوں میں پولیس اسٹیشن پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہیدپولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم صرف دہشتگردوں کو نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کو بھی نشانہ بنائیں گے ،پاکستان عالمی امن کی کوششوں میں بھی کامیاب ہوگا اور ہم دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو بھی شکست دیں گے ۔ صدرِ مملکت نے شہدا کے خاندانوں کو صبر کی تلقین کی اور شہدا کی مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اورشہداکے خاندانوں سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس فرنٹ لائن پر ہے ،شہید اہلکاروں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔