مشرق وسطی کشیدگی ،قطری وزیراعظم کا ہفتے میں شہبا ز شریف سے دوسرا رابطہ
بحران کے پرامن حل کے لئے پاکستانی ثالثی کے مکمل حامی ہیں،فریقین کو مثبت جواب دینا چاہئے :شیخ محمد بن عبدالرحمن فریقین کی تعمیری شمولیت جاری امن کوششوں کی کامیابی کیلئے ضروری ، امیر قطر کے دورہ پاکستان کے منتظر:وزیراعظم
اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے تناظر میں قطر کے وزیراعظم اوروزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آلجاسم آلثانی نے ایک ہفتے میں دوسری بار وزیراعظم شہبازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیاہے اورخطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جبکہ خطے میں دیرپا امن، استحکام اور تعمیری مذاکرات کے فروغ کیلئے جاری تمام کوششوں کی حمایت کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور تعمیری مذاکرات کے فروغ کیلئے جاری کوششوں کی حمایت کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ایکس پربیان میں شہبازشریف کا کہناتھاکہ وہ اپنے ’’بھائی‘‘ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی ٹیلیفون کال موصول ہونے پر خوش ہیں ،ان تک امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کیلئے نیک خواہشات اور شکریہ کا پیغام پہنچایا اورقطر کی جانب سے پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کی مسلسل حمایت کو سراہا جو خطے میں مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے امن و استحکام کے فروغ کیلئے کی جا رہی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ امیرِ قطر کے متوقع دورہ پاکستان کے منتظر ہیں۔وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری امن کوششوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کی تعمیری شمولیت جاری امن کوششوں کی کامیابی کیلئے ضروری ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ امیرِ قطر کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا شراکت داری کو مزید مضبوط اور وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بحران کے پرامن حل کیلئے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو ان کوششوں کا مثبت جواب دینا چاہئے تاکہ مذاکرات میں پیش رفت اور خطے میں پائیدار امن کیلئے جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے ۔واضح رہے کہ یہ ایک ہفتے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیراعظم کے درمیان دوسرا ٹیلیفونک رابطہ تھا۔ یہ رابطہ قطری وزیراعظم کی امریکا میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کیلئے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف سے ملاقاتوں کے بعد ہوا۔