بنوں حملہ:پاکستان کی عالمی حیثیت سے دشمن خوفزدہ

بنوں حملہ:پاکستان کی عالمی حیثیت سے دشمن خوفزدہ

افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کے پاس امریکی اسلحہ اور بھارتی فنڈنگ موجود

(تجزیہ:سلمان غنی)

بنوں کی پولیس چوکی فتح خیل پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے سے دہشتگردی میں 15 جوانوں کی شہادت سے ایک بات تو واضح ہو گئی کہ دشمن پاکستان کی بڑھتی عالمی و علاقائی حیثیت اور اہمیت کو ہضم نہیں کر پا رہا اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہے ،وہ غیر ملکی اسلحہ کیساتھ ساتھ اب ڈرونز کا استعمال بھی کر رہا ہے لہذا اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ دہشتگردی کے پیچھے کون اور کیوں ہے ،اصل مقاصد کیا ہیں؟ ، حقائق کا جائزہ لیا جائے تو بڑی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ جوں جوں پاکستان کی عالمی وسفارتی حیثیت بڑھ رہی ہے دشمن کے ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں ، وہ سمجھتا ہے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا خواب اسوقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک سکیورٹی فورسز کو کمزور نہیں کیا جاتا، اسی ضمن میں اسکا خصوصی ٹارگٹ اب پولیس کی چیک پوسٹیں ہیں ، خصوصاً بنوں، ڈی آئی خان اور شمالی وزیرستان جیسے علاقوں میں جہاں پولیس بطور فرنٹ لائن فورس کام کر رہی ہے ۔یہ دہشتگرد کون اور کہاں سے سرگرم ہیں یہ اب ڈھکا چھپا نہیں کہ یہ سرحد پار سے منظم انداز سے سرگرم ہیں ۔

یہ پولیس چوکیوں پر حملہ کر کے تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ریاستی رٹ کمزور ہے اور فوج کے مقابلہ میں وہ اسکا نسبتاً آسان ہدف ہیں جبکہ پولیس اور سی ٹی ڈی نے حالیہ برسوں میں کئی نیٹ ورک توڑے ، دہشتگرد پکڑے ، اس وجہ سے پولیس انکی براہ راست دشمن بن گئی ۔ دہشتگردی کے پیچھے اصل کردار افغانستان میں بیٹھے دہشتگردوں کے وہ گروہ ہیں جنکے پاس امریکی اسلحہ اور بھارت کی فنڈنگ ہے ، سہولت کار طالبان کے مختلف گروپس ہیں، ایجنڈا پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور اسے سکیورٹی صورتحال میں الجھائے رکھنا ہے ۔ دشمن سمجھتا ہے کہ پاکستان چین کی معاونت سے معاشی حوالہ سے پیش قدمی کرے گا جو بھارت ہضم نہیں کر سکتا اور وہ ہر قیمت پر پاکستان میں امن و استحکام پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے ۔ ایسے وقت جب قوم معرکہ حق کی سالگرہ کا جشن منا رہی ہے اس موقع پر بنوں کی چوکی پرحملہ اسکی بوکھلاہٹ اور جھنجھلاہٹ کا بین ثبوت ہے ،خود ہمیں بھی سوچنا ہے کہ دہشتگردی کیلئے صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ سیاسی اتفاق رائے ، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور مقامی سطح پر اعتماد سازی ضروری ہے ، صوبائی حکومت کو امن و امان پر خصوصی توجہ دینا ہو گی، وفاق کو بھی صوبائی حکومت سے ملکر نئی حکمت عملی کیساتھ ممکنہ فنڈز فراہم کرنا ہونگے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں