51 ارب کلائمیٹ لیوی وصولی متوقع، 88 ملین پنکھے بدلنے کا پلان
ڈھائی روپے فی لٹر لیوی سے سات ماہ میں 29 ارب روپے وصول کیے گئے آر ایل این جی کے دو لاکھ کنکشن جاری ہو چکے ، قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات
اسلام آباد(نامہ نگار) قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں جاری مالی سال کے دوران تقریباً 51 ارب روپے وصول ہونے کا امکان ہے ۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے وقفہ سوالات میں کہا کہ یکم جولائی 2025 سے پٹرول، ہائی سپیڈ ڈیزل اور فرنس آئل پر ڈھائی روپے فی لٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی نافذ ہے جبکہ جولائی 2025 سے جنوری 2026 تک 29.161ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ رقم بجٹ سپورٹ کے لیے استعمال نہیں ہوتی اور گیس پر یہ لیوی عائد نہیں کی گئی۔وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ آر ایل این جی کنکشنز کا اجرا دوبارہ شروع کیا گیا ہے اور اب تک دو لاکھ کنکشن دئیے جا چکے ہیں جبکہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں 36 کنسیشن لائسنس جاری ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ قطر سے ایل این جی درآمد میں تعطل اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باوجود کھاد سازی صنعت اور گھریلو صارفین کو گیس فراہمی برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے پانچ کلومیٹر تک فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے ۔پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال خان نے بتایا کہ قومی توانائی بچت و تحفظ پالیسی 2023 کے تحت وزیراعظم فین ری پلیسمنٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت آئندہ 10 برسوں میں 88 ملین زیادہ بجلی استعمال کرنے والے پنکھے تبدیل کیے جائیں گے ۔وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے پر عمل نہیں کر رہا اور چناب پر پانی روکنے سمیت آبی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاملہ عالمی فورمز پر اٹھایا ہے اور عالمی برادری پاکستان کے مؤقف کی حمایت کر رہی ہے۔