آبنائے ہرمز اس ماہ بند رہے گی:جون میں بحری آمدورفت بتدریج بحال ہو گی: امریکی محکمہ توانائی ، نیا حملہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار 90 فی فیصد تک یورینیم افزودہ کر سکتے : ایران

 آبنائے ہرمز اس ماہ بند رہے گی:جون میں بحری آمدورفت  بتدریج بحال ہو گی: امریکی محکمہ توانائی ، نیا حملہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار 90  فی فیصد تک یورینیم افزودہ کر سکتے : ایران

ایران یورینیم افزودگی روک دے گا،معاہدے کی جلدی نہیں:ٹرمپ،تاخیر کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان چکائیں گے :قالیباف،جوہری ٹیکنالوجی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں:ایرانی ایٹمی توانائی ایران کا امریکی بحری جنگی جہاز کا راستہ تبدیل کرانیکا دعویٰ،جنگ پر 29ارب ڈالر خرچ:پینٹاگون، ٹرمپ چین چلے گئے ، چینی صدر شی جن پنگ سے ایران جنگ،تجارتی معاملات، تائیوان پر گفتگو متوقع

تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمۂ توانائی کے شماریاتی ادارے کا اندازہ ہے کہ آبنائے ہرمز اس ماہ (مئی )کے اختتام تک مؤثر طور پر بند رہے گی اور جون سے بحری آمدورفت بتدریج بحال ہوگی، اس صورتحال کے باعث ادارے نے امریکا میں پٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتوں کے اپنے تخمینے بڑھا دئیے ہیں۔آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت اور امریکا و اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے ، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ سے روزانہ لاکھوں بیرل توانائی کی برآمدات رُک گئی ہیں، جس سے دنیا بھر میں ایندھن کی قلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔امریکا میں پٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتیں کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے چند ماہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن گئی ہیں۔امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن  کے مطابق اب توقع ہے کہ امریکا میں ریٹیل پٹرول کی اوسط قیمت اس سال 3.88 ڈالر فی گیلن رہے گی، جو اپریل میں جاری کیے گئے سابقہ تخمینے سے تقریباً 18 سینٹ زیادہ ہے۔

امریکی وزارتِ دفاع کے ادار ے پینٹاگون نے امریکی کانگریس میں بجٹ کے حوالے سے ہونے والی بریفنگ میں بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں اب تک 29 ارب ڈالر لاگت آ چکی ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریڈیو پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے دوران براہ راست ایرانی حکام سے رابطے میں رہے ہیں، انہوں نے کہا ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ (افزودہ یورینیم )حاصل کر لیں گے ۔ہمیں یقین ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی 100 فیصد روک دے گااور جوہری ہتھیار بنانے کی کسی بھی کوشش سے دستبردار ہو جائے گا۔انہوں نے کہا امریکا کو کسی معاہدے کی طرف جلدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،ہم کسی چیز میں جلد بازی نہیں کریں گے ، ہمارے پاس ایک ناکہ بندی موجود ہے ۔ادھر ایران کی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ 14 نکاتی تجویز میں ایرانی عوام کے حقوق واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں، انہیں تسلیم کرنا پڑے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا 14 نکاتی تجویز میں بیان کردہ ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے ، اس کے علاوہ اختیار کی جانے والی کوئی بھی حکمتِ عملی مکمل طور پر بے نتیجہ ہو گی اور اس کا حاصل مسلسل ایک کے بعد ایک ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا جتنی زیادہ تاخیر کرے گا، اتنی ہی اس کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑے گی۔ایران کے ادارہ برائے ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کہا ایران کے یورینیم افزودگی کے پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا،جوہری ٹیکنالوجی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں، ایران کی جوہری تنصیبات اور اثاثوں کے تحفظ کیلئے ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکا کو نئے حملے سے متعلق دھمکی دیتے ہوئے کہا امریکا نے نیا حملہ کیا تو ایران کے ممکنہ آپشنز میں سے ایک یورینیم کی افزودگی 90 فیصد تک لے جانا بھی ہوسکتا ہے ، اس ممکنہ آپشن کا پارلیمان میں جائزہ لیں گے ۔ماہرین کے مطابق 90 فیصد افزودگی کا مطلب ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت کے قریب ہونا ہے ۔ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے نائب کمانڈر نے کہا ہے کہ ایک امریکی جنگی جہاز جو آبنائے ہرمز عبور کرنا چاہتا تھا ایرانی بحریہ کے ‘انتباہی فائر’ کا نشانہ بنا، جس کے بعد اس نے فوراً اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک نہایت اہم سربراہی اجلاس کیلئے چین روانہ ہو گئے ۔

توقع ہے کہ دونوں رہنما تجارت، ایران جنگ اور خودمختار جزیرے تائیوان کے معاملات پر بات چیت کریں گے ، جسے بیجنگ اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ ٹرمپ نے روانگی سے قبل کہا وہ بیجنگ پہنچنے پر چینی رہنما شی جن پنگ کے ساتھ ایران جنگ پر طویل بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے اس تاثر کو کم اہمیت دی کہ تنازع ختم کرنے کیلئے انہیں چین کی مدد درکار ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر چیز سے بڑھ کر تجارت دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا بنیادی موضوع ہوگی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں صدر شی کی بہت عزت کرتا ہوں اور امید ہے کہ وہ بھی میری عزت کرتے ہوں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کی کوششوں کے دوران امریکی عوام کی مالی مشکلات ان کی اولین ترجیح نہیں ہیں۔انہوں نے کہا میں صرف ایک چیز کے بارے میں سوچتا ہوں، ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ، بس۔انہوں نے کہا جب یہ تنازع ختم ہوگا تو تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی۔دوسری جانب ایران کے چین میں سفیر رحمانی فاضلی نے کہا کہ بیجنگ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ایک اہم قوت بن سکتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں