فضائی حادثے میں موت یازخمی ہونے پرمعاوضہ 2کروڑروپے مقرر

فضائی حادثے میں موت یازخمی ہونے پرمعاوضہ 2کروڑروپے مقرر

ایئرلائنز 30دن میں ادائیگی کی پابند، کیسز کا فیصلہ بھی 6 ماہ کے اندر لازمی قرار کنزیومر کورٹس کو بھی فضائی تنازعات سننے کا اختیارہوگا، بل سینیٹ سے بھی منظور

اسلام آباد ( حریم جدون )پارلیمنٹ نے فضائی مسافروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم قانون سازی کرتے ہوئے ‘‘کیریج بائی ایئر ترمیمی ایکٹ 2026’’ منظور کر لیا جسکے تحت فضائی حادثات میں جاں بحق یا زخمی ہونے والے مسافروں کے لیے معاوضے کی حد بڑھا کر 2 کروڑ روپے مقرر کر دی گئی ۔بل قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی منظور ہو گیا۔نئے قانون کے مطابق فضائی حادثات سے متعلق مقدمات کا فیصلہ 6 ماہ کے اندر کرنا لازمی ہوگا جبکہ مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ عدالت کو ہائی کورٹ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ اس اقدام کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو برسوں تک قانونی پیچیدگیوں میں پھنسنے سے بچانا ہے ۔ترمیمی قانون میں ایئرلائنز کو حادثے کے 30 دن کے اندر متاثرہ خاندان کو ایڈوانس ادائیگی کا پابند بھی بنایا گیا ہے تاکہ فوری مالی مدد فراہم کی جا سکے۔

قانون کے تحت اگر حادثہ ایئرلائن کی غفلت کے بغیر بھی پیش آئے تب بھی کمپنی کو 2 کروڑ روپے تک معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔صارفین کے لیے ایک اور بڑی سہولت کے طور پر ‘‘کنزیومر کورٹس’’ کو بھی فضائی تنازعات سننے کے اختیارات دے دئیے گئے ہیں جس سے مسافروں کو سستے اور تیز انصاف تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔قانون میں وفاقی حکومت کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ ہر 3 سال بعد افراطِ زر کے تناسب سے معاوضے کی شرح میں اضافہ کر سکے ۔ اس کے علاوہ کارگو اور سامان کی ترسیل کے نقصانات پر جرمانوں کی نئی شرحیں بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ یہ قانون پاکستان میں فضائی سفر کے شعبے میں مسافروں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جو ایئرلائنز کی ذمہ داریوں کو مزید واضح اور سخت بنائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں