سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کابشریٰ سے فیملی کی ملاقات کرانے سے انکار

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کابشریٰ سے فیملی کی ملاقات کرانے سے انکار

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی کی فیملی، ذاتی معالج سے ملاقات اور ضروری سامان فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر جیل رپورٹ پیش آ نے کے بعد آئندہ سماعت پر دلائل طلب کرلئے۔۔۔

انہوں نے کہا کہ جیل ملاقات کی درخواست تفصیل سے سن کر میرٹ پر فیصلہ کریں گے ، بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ مانیکا کی درخواست پر سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایاکہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے مبشرہ مانیکا کو ذاتی حیثیت میں سنا اور بشریٰ بی بی سے فیملی،ذاتی معالج کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی ہے ،دوران سماعت سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ بھی عدالت پیش کی گئی جس میں بتایاگیاکہ ملاقات کے بعد باہر سیاسی گفتگو کی جاتی ہے ، رپورٹ میں بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو کے ٹویٹس کو بھی حصہ بنایاگیا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بتایاکہ پیر سے ہفتہ تک چھ روز ملاقاتیں کرائی جاتی ہیں،تمام ملاقاتیں جیل مینول کے مطابق ہوتی ہیں، جس کیلئے پی ایم آئی ایس سسٹم ہے ،عدالت نے استفسار کیاکہ یہ کیا سسٹم ہے؟

جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایاکہ یہ پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم ہے تمام کام آن لائن ہوتاہے ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہاکہ یہ تو پھر بہت اچھاسسٹم ہے ، ہم اس کے طریقہ کار کو سمجھنا چاہتے ہیں ، سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ رپورٹ میں بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو کی ٹویٹس لگائی گئی ہیں،وہ تو کبھی اڈیالہ جیل گئی ہی نہیں وہ بیرون ملک رہتی ہیں،کسی تیسرے فرد کی ٹویٹس کی بنیاد پر بیٹی کو ملاقات سے کیسے روکا جا سکتا ہے ؟، جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہاکہ آپ ان سے بیان حلفی لے لیں،ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ کیلئے پابندی نہیں لگائی،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا ہم جلدبازی میں فیصلہ نہیں کرنا چاہتے ، پورے طریقہ کار کو سمجھ کر فیصلہ کرنے دیں،آپ کیلئے اس دوران جب ممکن ہو بشریٰ بی بی سے بیٹی کی ملاقات کرائیں،عدالت نے سماعت 14 مئی تک ملتوی کر دی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں