بجٹ خسارہ 856ارب ہو گیا، آئی ایم ایف مذاکرات آج شروع

بجٹ خسارہ 856ارب ہو گیا، آئی ایم ایف مذاکرات آج شروع

جولائی تا مارچ ایف بی آر ٹیکس محصولات بالحاظ جی ڈی پی 7.8 فیصد تک محدود رہے

اسلام آباد (مدثر علی رانا) رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران حکومت کو بجٹ خسارہ کا سامنا، وزارت خزانہ فسکل آپریشن رپورٹ کے مطابق جولائی تا دسمبر حکومت  کو 541 ارب کا بجٹ بیلنس سرپلس ہوا تھا جو اب جولائی سے مارچ کے دوران بجٹ خسارہ 856 ارب روپے ریکارڈ ہوا ہے ، وفاق کی مجموعی آمدن 14799 ارب اور اخراجات 15665 ارب روپے رہے ، جولائی تا مارچ سود ادائیگیوں پر 4 ہزار 947 ارب روپے جبکہ 16 سو 90 ارب روپے دفاع پر خرچ کیے گئے ، 4 ہزار 91 ارب روپے پرائمری بیلنس سرپلس رہا ، پرائمری بیلنس سرپلس جی ڈی پی کا 3.2 فیصد رہا جبکہ رواں مالی سال آئی ایم ایف شرط کے مطابق 2.4 فیصد پرائمری بیلنس سرپلس رکھنا ہے ۔ حکومت کی مجموعی آمدن بالحاظ جی ڈی پی 11.4 فیصد اور اخراجات 12.1 فیصد رہے۔

جولائی تا مارچ ایف بی آر ٹیکس محصولات بالحاظ جی ڈی پی 7.8 فیصد تک محدود رہے ، قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 5630 ارب روپے سے زائد رقم ادا کی گئی، پنجاب کو 2782، سندھ کو 1400 ارب ، کے پی کو 911 ارب اور بلوچستان کو 535 ارب روپے جاری کیے گئے۔ وزارت خزانہ کی رواں مالی سال جولائی تا مارچ مالیاتی آپریشنز رپورٹ کے مطابق جولائی تا مارچ ٹیکس آمدن 10166 ارب روپے رہی، صوبوں نے 860 ارب روپے ٹیکس جمع کیا ، نان ٹیکس آمدن 4632 ارب روپے رہی ، سٹیٹ بینک کا منافع 2428 ارب روپے رہا ، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 1205 ارب روپے رہی ، سرکاری اداروں کے ڈیویڈنڈ سے 100 ارب روپے آمدن ہوئی ، کاربن لیوی 37 ارب روپے جمع ہوئے ، پٹرول گاڑیوں کے انجن پر اضافی ٹیکس سے 17 ارب 77 کروڑ روپے جمع ہوئے ، قرضوں اور سود کی ادائیگی پر 4974 ارب روپے ، 660 ارب روپے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی ، پنشن کی مد میں 753 ارب روپے ، انتظامی امور پر 629 ارب روپے ، سبسڈیز پر 631 ارب روپے ، 332 ارب روپے ترقیاتی اخراجات پر خرچ کیے گئے۔

جولائی تا مارچ پنجاب کی ٹیکس آمدن 3320 ارب روپے اور اخراجات 2495 ارب رہے اور بجٹ 824 ارب روپے سرپلس رہا ، سندھ کی آمدن 2128 ارب روپے اور اخراجات 1687 ارب روپے رہے اور بجٹ 440 ارب روپے سرپلس دیا ، خیبر پختونخوا کی آمدن 1138 ارب روپے اور اخراجات 885 ارب روپے رہے اور بجٹ 252 ارب روپے سرپلس رہا ، بلوچستان کی آمدن 628 ارب روپے اور اخراجات 510 ارب روپے رہے اور بجٹ 118 ارب روپے سرپلس رہا۔ وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاری کیلئے آئی ایم ایف وفد کے ساتھ وزارت خزانہ اور متعلقہ وزارتوں کیلئے مذاکرات آج سے شروع ہو جائیں گے ، معاشی ٹیم کا فنڈ کے وفد کے ساتھ بجٹ تیاری کا مرحلہ 20 مئی تک جاری رہے گا ، بجٹ مذاکرات میں وزیرخزانہ بھی شریک ہونگے ، وفد سے بجٹ کیلئے ٹیکس ریونیو اہداف کے اقدامات بارے میں بات چیت ہو گی ۔ ترقیاتی اخراجات بارے بجٹ 2026-27 کی تجاویز تیار کی جائیں گی، آئی ایم ایف کے ساتھ مالی نظم و ضبط بہتر بنانے کیلئے اقدامات پر بات چیت ہو گی ، حکومتی اخراجات اور بجٹ میں ہم آہنگی کیلئے اقدامات بارے تجاویز زیر غور آئیں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں