پنکی کیس:متحدہ کا ارکان سندھ اسمبلی کے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ
نیٹ ورک کے پیچھے کس کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہونا چاہئے ، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے حساس معاملے پر بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ہے ،شرجیل میمن
کراچی (آن لائن ) انمول پنکی کیس سامنے آنے کے بعد ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے ارکان سندھ اسمبلی کے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کردیا۔ سندھ اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ انمول پنکی کے معاملے کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے ، یہ پورا مافیا ہے ، بڑے بڑے نام سننے کو مل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منشیات کا منظم نیٹ ورک سندھ حکومت سے بالا ہے ، اس نیٹ ورک کے پیچھے کس کا گٹھ جوڑ ہے بے نقاب ہونا چاہیے ۔انہوں نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کی اور صوبے میں بدترین طرز حکمرانی، کرپشن، پانی کے بحران، لوڈشیڈنگ، سولر منصوبوں میں بے ضابطگیوں اور سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ مالی بدعنوانیوں کے الزامات عائد کیے ۔انہوں نے کہا سندھ پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے لیکن گزشتہ 18 برس سے اقتدار ایک ہی جماعت کے پاس ہونے کے باوجود گورننس کے سنگین مسائل برقرار ہیں۔ ان کا کہنا تھا جب بھی حکومت پر تنقید کی جاتی ہے 10 روپے کے ترجمان متحرک ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے سندھ پبلک سروس کمیشن پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن میں میرٹ کی پامالی ہو رہی ہے اور افسران کی تعیناتیوں کے لیے کروڑوں روپے لیے جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض امیدواروں کو پوسٹنگ کے لیے 3 سے 7 کروڑ روپے تک ادا کرنا پڑتے ہیں، جبکہ پرچے لیک ہونے کے واقعات بھی بدانتظامی کی واضح مثال ہیں۔ انہوں نے کہا وزیراعلیٰ سندھ مسائل کے حل کے لیے اب چھلانگیں لگا رہے ہیں، حالانکہ یہ اقدامات پہلے کیے جانے چاہیے تھے ۔ انہوں نے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔کراچی میں پانی کے بحران پر بات کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا شہری پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں لیکن سندھ حکومت گزشتہ 18 برس میں شہر کے لیے پانی کی ایک اضافی بوند بھی فراہم نہیں کرسکی۔ حب ڈیم سے 100 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی تاحال ممکن نہیں بنائی جا سکی، جبکہ اس معاملے پر بلاول بھٹو زرداری کو بھی غلط بریفنگ دی گئی۔جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا پیپلز پارٹی کی بی ٹیم جماعت اسلامی ہے اور اس کی کارکردگی بھی عوام کے سامنے ہے ۔
انہوں نے انمول عرف پنکی کیس کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں بڑے لوگ ملوث ہیں اور منشیات فروشی پولیس کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا اس مسئلے نے کئی خاندان تباہ کردیے ہیں اور اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوں نے وزیر داخلہ سندھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سول ایوارڈ دیا گیا جبکہ کراچی میں جرائم کی صورتحال سب کے سامنے ہے ۔ ادھر شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر نے کہا منشیات صرف سندھ کا ایشو ہے اور ارکان اسمبلی کے ٹیسٹ کرائیں، بالکل ٹیسٹ کرائیں لیکن کل ان کے لوگوں کے کچھ نام سامنے آئے ہیں شاید اور بھی آئیں ۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ افسوس ہے اپوزیشن لیڈر نے حساس معاملے پر بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی، ہمارے پاس لمبی فہرست ہے لیکن اس جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتے ۔