بلا تفریق ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کرینگے : چیف جسٹس آئینی عدالت

بلا تفریق ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کرینگے : چیف جسٹس آئینی عدالت

اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اخلاقی طورپر بھی فرض،سب سے اہم مذہبی ہم آہنگی،کوٹہ سسٹم پر کام کر رہے :جسٹس امین جسٹس اے آر کارنیلیئس نے تاریخی فیصلے دئیے :جسٹس نجفی، انکے کارناموں پر عملدرآمد کی ضرورت :وزیر قانون

لاہور(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین نے مینارٹی رائٹس فورم کے زیر اہتمام جسٹس اے آر کارنیلیئس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاجسٹس اے آر کارنیلیئس پاکستان کے عظیم ترین جج تھے ،انہوں نے ہمیشہ بلاتفریق کام کیا اور ہمارا آئینی اثاثہ ہیں، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ صرف آئینی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی طور پر بھی ہمارا فرض ہے ،بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت یقین دلاتا ہوں کہ بلاتفریق ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کریں گے ،ہر وہ شخص جو مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کے لیے کام کر رہا ہے لائق تحسین ہے ،ہر شخص کو قانون کے تحت مذہبی تحفظ حاصل ہے ،اقلیتوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ صرف قانونی نہیں اخلاقی فرض ہے ، ہمارے معاشرے میں سب سے اہم مذہبی ہم آہنگی ہے ،اقلیتوں کے کوٹہ سسٹم کے حوالے سے بھی کام کر رہے ہیں ،دعا ہے کہ یہ ملک ہمیشہ قائداعظم کے وژن کے مطابق خوشحال اور پرسکون بنے ۔

وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس اے آر کارنیلیئس نے پاکستان کی تاریخ میں بہت اعلیٰ فیصلے دئیے ،آئین پاکستان میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ موجود ہے ،آرٹیکل 20 کے تحت ہر کسی کو اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے ،انسانی تاریخ میں مذہب کا کردار بہت اہم رہا ہے ،مذہب کو تنگ نظری سے نہیں دیکھا جاسکتا ہے ۔مذہبی آزادی کا مطلب ہے کہ اپنا دین چھوڑو مت اور دوسرے کا دین چھیڑو نہیں،ہماری آئین میں دی گئی مذہبی آزادی قائد اعظم کا وژن تھا،مذہبی آزادی کا مطلب صرف اقلیتوں کا تحفظ نہیں بلکہ آئین کا تحفظ بھی ہے ،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں ہم مینارٹی کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں ،اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری صرف عدلیہ کی انفرادی نہیں بلکہ تمام اداروں کی اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے ۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا جسٹس کارنیلیئس جیسی شخصیات کے حوالے سے تقریبات بہت ضروری ہیں ،جسٹس کارنیلیئس جیسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے ،ہم سب نے آئین کے تحت اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے قوم کی خدمت کرنی ہے ،اگر سب اپنا کردار ادا کریں تو پھر اکثریت اور اقلیت سب ہی خوش ہوں گے ،بطور وزیر انسانی اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں، مذہبی آزادی کی حفاظت صرف عدالتوں کا کام نہیں،پارلیمنٹ، ایگزیکٹو اور معاشرے کا بھی اس میں کردار بھی ہے ،مذہبی سکالر کو بھی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے معاشرے کو تیار کرنا چاہیے ،جسٹس کارنیلیئس جیسے لوگ مشعل راہ ہیں، جسٹس کارنیلیئس نے ایک مشکل دور میں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تھا ،زیادہ ضرورت ہے کہ ہمیں جسٹس کارنیلیئس کے کارناموں پر عملدرآمد کرنا ہے ،آئین پاکستان ریاست کو چلانے کے لیے ایک ضابطہ کار ہے ،حکومت ،مقننہ، عدلیہ سب پابند ہیں کہ آئین کے دائرے میں رہ کر اپنا کام کریں ،قذافی سٹیڈیم میں جسٹس کارنیلیئس کے نام کا گیٹ ختم کرنے پر وزیر اعظم اور محسن نقوی سے بات کروں گا ،پاکستان میں اقلیتوں کی تعداد 66 لاکھ ہے ،بجٹ سے پہلے منارٹیز کمیشن کام شروع کر دے گا ۔کانفرنس میں جسٹس کار نیلیس کی یاد میں کیک بھی کاٹا گیا اور شرکاء میں شیلڈز تقسیم کی گئیں ، اس موقع پر سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی، وکلاء اور اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں