جیکب آباد : پسند کی شادی جرم ٹھہری، لڑکی کے ورثا نے پورا گائوں جلا دیا
تحصیل ٹھل میں لڑکی کے گھر والوں نے کئی آشیانے راکھ کاڈھیر بنادیئے ، جمع پونجی راکھ کا ڈھیر، متاثرین کھلے آسمان تلے رہنے پرمجبور انصاف کی دہائی، گاؤں غازی خان چنہ کی لڑکی سدریٰ چنہ اور محمد حسن برڑو نے کورٹ میرج کی، 32 ملزمان کیخلاف مقدمہ، 5گرفتار
جیکب آباد، ٹھل (نمائندہ دنیا، مانیٹرنگ ڈیسک) جیکب آباد میں پسند کی شادی جرم بن گئی، انتقام کی آگ میں لڑکی کے گھر والوں نے تحصیل ٹھل میں لڑکے والوں کا پورا گاؤں نذر آتش کردیا، جس سے جمع پونجی راکھ کا ڈھیر بن گئی، جبکہ مکین بھی کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوگئے ۔ جوڑے نے حکومت سے انصاف کی اپیل کی ہے ، پولیس نے 32 ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرکے 5 کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے۔
جہاں پسند کی شادی کی سزا پورے گاؤں کو ملی ہے ، لڑکی کے ورثا اور چنہ برادری نے برڑو برادری کے گھروں پر حملہ کرکے گھروں کو آگ لگا دی، جس پر برڑو برادری کے لوگ گھر خالی کر کے فرار ہوگئے ، حملے کیلئے چنہ برادری کے سینکڑوں مسلح افراد پہنچے ، اور برڑو برادری کے گھروں کو جلا دیا، لڑکی سدریٰ چنہ کا کہنا ہے کہ ہم نے حیدرآباد کی عدالت میں پسند کی شادی کی تھی، نہ مجھے کسی نے اغوا کیا ہے ، نہ کوئی مجھے دھمکارہا ہے ، میرے ورثا نے الزام لگایا کہ میں کمسن ہوں جو غلط ہے ، میں جوان ہوں، میں گھر سے صرف اپنے ایک سوٹ میں نکلی کوئی چیز نہیں اٹھائی، بے بنیاد الزام لگائے جارہے ہیں۔
گاؤں غازی خان چنہ کی لڑکی سدریٰ چنہ اور محمد حسن برڑو نے پسند کی شادی کی، اور حیدر آباد کی عدالت میں نکاح کیا، جس پر لڑکی کے اہل خانہ انتقام کی آگ میں جلنے لگے ، 30 سے 40 افراد نے گاؤں پر حملہ کردیا، اور سزا پورے گاؤں کو دی، سدریٰ چنہ کے ورثا نے حسن برڑو کے گاؤں محمد صدیق آرائیں کو آگ لگادی، جس سے پورا گاؤں آگ کی نذر ہوگیا، برڑو برادری کا کہنا ہے کہ اعلی ادارے ہماری مدد کریں، جبکہ پریمی جوڑے نے بھی اپیل کی ہے کہ ہماری جان کو خطرہ ہے ، پولیس کی جانب سے گاؤں جلانے کے خلاف چنہ برادری کے 30افراد پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ، پولیس نے 5 افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے ، مزید ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔