مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے مجموعی تیزی کا عنصر غالب رہا
سندھ وپنجاب میں روئی کافی من بھاؤ 20سے 23ہزار روپے کے درمیان رہا
کراچی (این این آئی)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھا ؤمیں مجموعی طور پر تیزی کا عنصر غالب رہا گو کہ روئی کا اسٹاک بہت ہی محدود رہ گیا، تقریباً 20 ہزار گانٹھوں کا اسٹاک موجود ہے جبکہ نئے سیزن 27-2026 کی فصل کی جزوی آمد شروع ہوچکی ہے لیکن 15 جون سے کچھ جننگ فیکٹریاں جزوی شروع ہوسکیں گی عید الاضحی سے قبل دو جننگ فیکٹریاں ایک بورے والا اور ایک خانیوال اگتی پھٹی سے دو، دو تین، تین لاٹ نکال سکیں گی۔فی الحال اگتی پھٹی فی 40 کلو 10000 تا 11600روپے میں اور روئی فی من 21250 تا ،22000 روپے میں فروخت ہوئی ہے ۔ سندھ میں سانگھڑ میں ایک، دو جننگ فیکٹریاں جزوی طور پر چلنے کی امید ہے ۔اس سال حکومت کی جانب سے صوبہ سندھ و بلوچستان سے روئی کی صوبہ پنجاب جانے کے لئے 0.9 فیصد CESS TEX عائد کردیا ہے ۔ علاوہ ازیں توانائی، پٹرول اور ڈیزل کے دام میں ہوشربا اضافہ سے ٹرانسپورٹ کے کرائیوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوجائے گا جس سے سندھ سے صوبہ پنجاب کی ٹیکسٹائل ملز کو زیادہ قیمتیں ادا کرنی پڑیں گی کیوں کہ سیزن کے شروع میں سندھ سے پنجاب کی ملز کو خاصی تعداد میں روئی جاتی ہے ان کو مشکلات ہونگی۔ٹیکسٹائل ملز کے مالکان کے کہنے کے مطابق کاٹن یارن کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے روئی کی قیمت زیادہ سے زیادہ 18000 تا 18500 مناسب رہے گی۔ اس سے زیادہ قیمت پر روئی خریدنا نقصان ہوگا۔ لگتا ہے روئی کی قیمت سیزن کے شروع میں زیادہ اونچی نہیں ہوگی۔