سعد ایدھی کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کیخلاف احتجاج
پیر کو بیٹے سعد سے آخری گفتگو ہوئی ، اس کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا، صبا ایدھی حکومت نے رابطہ نہیں کیا، فیصل ایدھی، عالمی برادری نوٹس لے ،گورنرسندھ
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف خاندان اور مزدور تنظیموں کی جانب سے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا۔ غزہ میں امداد پہنچانے اور اسرائیلی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے فریڈم فلوٹیلا جمعرات کی شام ترکی سے روانہ ہوا تھا، جس میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سعد ایدھی بھی موجود تھے ۔سعد کی والدہ صبا فیصل کے مطابق پیر کی دوپہر 12:30 سعد نے انہیں فون کیا اور کہا کہ ’’اسرائیلی فوج نے گھیراؤ کرلیا ہے ، انہیں بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا، آپ ہم سب کے لیے دعا کریں، فلسطین کے لیے دعا کریں کہ وہ ظلم سے آزاد ہوں اور ان کی رہائی کے لیے دعا کریں‘‘۔ یہ اس کی آخری گفتگو تھی اور پھر رابطہ منقطع ہوگیا۔ صبا ایدھی کے مطابق میں نے اور سعد کی اہلیہ نے انہیں روکا تھا لیکن ان کا کہنا تھا یہ ان کا مشن ہے اور وہ ضرور جائیں گے۔
فیصل ایدھی نے بتایا کہ ان سے ابھی تک کسی کا کوئی رابطہ نہیں ہوا، گورنر سندھ سمیت سیاسی جماعتوں کے بیان ہی آرہے ہیں باقی حکومت پاکستان نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔دریں اثنا گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے سعد ایدھی کی اسرائیل میں گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ایک بیان کے مطابق نہال ہاشمی نے کہا انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو روکنا عالمی انسانی اقدار اور قوانین کے خلاف ہے ، سعد ایدھی اور ان کے ساتھی مظلوم فلسطینی عوام کے لئے خوراک، ادویات اور امدادی سامان لے کر جا رہے تھے ۔فلاحی رضاکاروں کی گرفتاری انسان دوستی کے جذبے کو دبانے کی ناکام کوشش ہے ، عالمی برادری فوری نوٹس لے اور امدادی کارکنوں کی محفوظ رہائی یقینی بنائے ۔ انہوں نے مزید کہا پاکستانی قوم انسانیت کی خدمت کرنے والے ہر فرد کے ساتھ کھڑی ہے ، فلسطینی عوام کی مدد کیلئے اٹھنے والی ہر آواز انسانیت کی آواز ہے ۔