ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس مالکان کو فوری ریلیف نہ مل سکا
اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ میں زیر سماعت انٹرا کورٹ اپیلوں میں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے 20 سب لیز ہولڈر اپارٹمنٹ مالکان کو فوری ریلیف نہ مل سکا۔
عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایات لے کر تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔سابق ایئر چیف مجاہد انور خان، سابق صدر آئی سی سی احسان مانی اور سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد سمیت دیگر کی انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت اپیل کنندگان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لیز منسوخی سے متعلق ہائیکورٹ کا واضح آرڈر موجود ہے ۔ قانون کے مطابق لیز منسوخی کے بعد بلڈنگ سی ڈی اے کی ملکیت بن چکی ہے ۔جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیئے کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی غیر قانونی ہے ؟ آپ نے کمیٹی کے خلاف درخواست کیوں دائر نہیں کی؟سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ اس معاملے پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کریں گے ، اس بارے میں اٹارنی جنرل آفس ہی بہتر مؤقف دے سکتا ہے ۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیئے کہ اگر وزیراعظم کی کمیٹی کو چیلنج نہیں کیا گیا تو یہ معاملہ مسئلہ بن سکتا ہے ۔ جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی مالکان کے حقوق کا دفاع کیا گیا تھا۔ کیا اپارٹمنٹ مالکان کو خالی کرنے کے لیے کوئی نوٹس دیا گیا؟ جب لیز موجود تھی تو یہ وہاں قانونی طور پر رہ رہے تھے ، البتہ اب اگر کوئی نیا شخص وہاں رہائش اختیار کرے تو وہ الگ معاملہ ہوگا۔تیمور اسلم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس بھیجی جاتی ہے اور دروازے توڑے جاتے ہیں، عدالت حکم امتناع جاری کرے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا اب ہمیں پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرانی پڑے گی؟جسٹس اعظم خان نے کہا کہ بلڈنگ کہیں نہیں جا رہی، پہلے یہ معلوم کرتے ہیں کہ سی ڈی اے کرنا کیا چاہتا ہے ۔کاشف ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ سی ڈی اے بورڈ قانون کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اگر کسی تیسرے فریق کو ریلیف دیا جاتا ہے تو اس کا براہ راست فائدہ بی این پی کو ہوگا۔عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایات لے کر تحریری جواب داخل کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 25 مئی تک ملتوی کر دی۔