پاؤنڈ کیس:عمران،بشری ٰ کے وکالت ناموں پر دستخط کا حکم

پاؤنڈ کیس:عمران،بشری ٰ کے وکالت ناموں پر دستخط کا حکم

سلمان صفدر بیمار:سلمان اکرم، سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی عدالت میں اچکزئی،علیمہ ، سہیل آفریدی کی مشاورت ، باہر دھرنا،نعرے بشریٰ سے فیملی کی ملاقات ،ذاتی معالج تک رسائی کا 15صفحات کا فیصلہ جاری

 اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے ،مانیٹرنگ ڈیسک ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر دلائل دینے کی ہدایت کردی،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط کرانے کا حکم بھی دے دیا ،سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ بانی اور بشریٰ کے وکیل آئندہ سماعت پر دلائل کا آغاز کریں، اگر سلمان صفدر دستیاب نہیں تو نیا وکیل دلائل دے گا، آئندہ سماعت پر دلائل کا آغاز نہ کیا گیا تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا ، گزشتہ روز سماعت کے موقع پر بیرسٹر اعتزاز احسن، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور دیگر وکلا عدالت میں موجود تھے۔

سماعت کے آغاز پر بیرسٹر سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ وہ وکیل سلمان صفدر کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں،سلمان صفدر صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ان کو طبی معائنے کے لیے ٹوکیو جانا ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سلمان صفدر موجود نہیں تو کوئی اور بھی اپیلوں پر دلائل نہیں دے گا؟ سلمان اکرم نے مو قف اختیار کیا کہ وکالت نامے موصول نہیں ہوئے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے ملاقات کر لی، وکالت نامہ بھی دستخط کروا لیتے ،سلمان اکرم نے کہا اس عدالت نے عمران خان اور بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کی تھیں اور دونوں متاثرہ فریق اس فیصلے کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں مگر وکالت نامے نہیں مل رہے ، دونوں عدالت کی تحویل میں ہیں،وکالت نامے پر دستخط کی اجازت نہیں دی جاتی تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی۔

بعد ازاں عدالت نے وکالت ناموں پر دستخط کرانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی، بعدازاں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی،علیمہ خان اوروزیر اعلی ٰ کے پی کے سہیل آفریدی نے کمرہ عدالت میں مشاورتی ملاقات کی جبکہ اسدقیصر،لطیف کھوسہ،سلمان اکرم نے احاطہ عدالت میں ہی دیگر وکلا اور رہنمائوں کے ہمراہ مختصر دھرنا دیا ، وکلا نے بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی بھی کی ،دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی سے فیملی کی ملاقات اور ذاتی معالج تک رسائی کی مبشرہ مانیکا کی درخواست پر15 صفحات کا فیصلہ جاری کر دیا، جسٹس ارباب محمد طاہر نے معاملہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بھجوا دیا اور کہا کہ فیملی ملاقات کی درخواست پر دوبارہ فیصلہ کریں، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل درخواست مسترد کرتے ہیں تو آئی جی جیل خانہ جات کا فورم موجود ہے ، ہائی کورٹ نے فیصلے کی کاپی چیف کمشنر اسلام آباد اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بھیجنے کا حکم بھی دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں