PNSC اور NLCکا اشتراک:سمندری تجارت میں انقلاب کا آغاز
تنظیم نو کے تحت PNSC کے 30فیصد شیئرز کی مارکیٹ ریٹ پر تشخیص کی جائیگی:حکام این ایل سی کا بنیادی ہدف 5سال میں PNSC کے بیڑے کو 54جہازوں تک پہنچانا ہے سمندری فریٹ مارکیٹ شیئر 5سے 56فیصد ، آمدنی 162سے 1785 ملین ڈالر ہو جائیگی
راولپنڈی (دنیا رپورٹ)پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC)، کا انتظام نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ اپنی تزویراتی کمزوری کے تناظر میں پاکستان نے 1947 میں صرف 3 تجارتی جہازوں سے اپنے بیڑے کا آغاز کیا جو 1960 کی دہائی تک 41 جہازوں تک پہنچ گیا، 1979 میں یہ تعداد 20 ہوئی اور 1982 میں 45 جہازوں کی بلند ترین سطح کو چھو گئی۔ یہ وہ سنہرا دور تھا جس نے قومی خزانے کو پائیدار منافع فراہم کیا۔ حکام کاکہنا ہے آج بدانتظامی اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے یہ گراف تیزی سے نیچے گرا ہے ۔ پی این ایس سی اب صرف 10 سے 13 جہازوں پر مشتمل ایک سکڑتے ہوئے بیڑے کے ساتھ کام کر رہا ہے ، جس میں سے 50 فیصد جہاز 20 سال سے زیادہ پرانے ہو چکے ہیں۔
اگرچہ مالیاتی سال 25-2024 میں کارپوریشن نے تکنیکی طور پر خالص منافع ظاہر کیا، لیکن اس کی آمدنی میں سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد کمی آئی اور مجموعی منافع کا مارجن سکڑ کر 29.8 فیصد رہ گیا۔ مالیاتی سال 26 کی پہلی سہ ماہی (Q1 FY26) کے آزادانہ نتائج بتاتے ہیں کہ منافع سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد گر کر 3.71 ارب روپے رہ گیا ہے ۔ اس منافع کا بڑا حصہ جہاز رانی کے بجائے اثاثوں کی فروخت یا چارٹر سے حاصل ہو رہا ہے ، کیونکہ پی این ایس سی کے جہاز عالمی معیار سے بہت پیچھے ہیں۔ مزید برآں دیکھ بھال اور مرمت کے بھاری اخراجات اور جہازوں کے زیادہ تر دن بیکار رہنے سے آپریشنل کارکردگی مسلسل متاثر ہو رہی ہے ۔ اس گراوٹ کے ملکی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی درآمدات اور برآمدات (EXIM) کا تقریباً 90 فیصد تجارت غیر ملکی پرچم والے جہازوں کے ذریعے ہوتی ہے ۔
پی این ایس سی کارگو کے حجم کا صرف 11 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے محض 4 فیصد ہینڈل کرتا ہے ۔ غیر ملکی جہازوں پر اس حد سے زیادہ انحصار کی وجہ سے ملک کو سالانہ 4 سے 8 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور پاکستان اس وقت غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کو فریٹ چارجز کی مد میں تقریباً 6 ارب ڈالر ادا کر رہا ہے ۔ ڈالروں کا یہ بڑا اخراج ملکی تزویراتی کمزوری کو بڑھاتا ہے ، برآمدات کی مسابقت کو کم کرتا ہے ، ہمارے ملاحوں کے روزگار کو محدود کرتا ہے اور ملکی میری ٹائم ایکو سسٹم کو پسماندہ رکھتا ہے ۔ پی این ایس سی کی یہ تنزلی علاقائی ممالک کے مقابلے میں انتہائی تشویشناک ہے ۔ بھارت کی شپنگ کارپوریشن (SCI) 57 سے 64 جہازوں کا بیڑا چلاتی ہے اور سری لنکا کے پاس 95 جہاز ہیں۔ جنوبی کوریا نے 1960 کی دہائی میں صرف 10 سے 15 جہازوں سے شروعات کی، جو 1990 کی دہائی تک 461 ہوئے اور آج ان کے پاس 2100 سے زائد جہاز ہیں۔ انڈونیشیا 11,400 سے زائد رجسٹرڈ جہازوں کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا بیڑا رکھتا ہے ۔
دوسری طرف پی این ایس سی کے پرانے ہوتے جہازوں کے لیے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے سخت قوانین کے باعث 2030 کے بعد منافع بخش رہنا ناممکن نظر آ رہا ہے ۔ مارکیٹ میں نجی آپریٹرز کی مکمل عدم موجودگی نے بھی اس شعبے کی ترقی کو محدود کر دیا ہے ۔ ڈالر کی شکل میں ادا کیے جانے والے اس بھاری فریٹ بل کو کم کرنے کے لیے حکومت نے اپنے بزنس پلان (2026-2030) کے تحت این ایل سی کو پی این ایس سی کے کاروبار میں شامل کیا ہے ۔ این ایل سی اپنی پیشہ ورانہ انتظامی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے آپریشنل کارکردگی کو بڑھائے گا اور زمین و سمندر کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو یکجا کرے گا۔ اس تنظیم نو کے تحت پی این ایس سی کے 30 فیصد شیئرز کی مارکیٹ ریٹ پر تشخیص کی جائے گی تاکہ بیڑے کی توسیع اور پی این ایس سی کی لیکویڈیٹی کے بہترین استعمال کے لیے سرمایہ حاصل کیا جا سکے ۔
ادارے کی کایا پلٹنے کے لیے عالمی معیار کے مالیاتی اور قانونی مشیر مقرر کیے جائیں گے تاکہ ایک پیشہ ورانہ انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکے ۔ این ایل سی کی شراکت داری کا بنیادی ہدف اگلے 5 سالوں میں پی این ایس سی کے بیڑے کو 54 جہازوں تک پہنچانا ہے ، جس سے پرانے بیڑے کی 100 فیصد تبدیلی ممکن ہو سکے گی۔ اس صلاحیت کے اضافے کا مقصد حکومت اور پی این ایس سی کے سمندری فریٹ مارکیٹ شیئر کو 5 فیصد سے بڑھا کر 56 فیصد کرنا ہے ، جس سے آمدنی 162 ملین ڈالر سے بڑھ کر 1785 ملین ڈالر ہو جائے گی۔ یہ کاروباری منصوبہ سال 2030 تک پاکستان کو زیادہ سے زیادہ قومی کارگو خود منتقل کرنے کے قابل بنائے گا، غیر ملکی فریٹ بلز کو کم کرے گا اور پاکستان کا بطور علاقائی شپنگ پاور وقار بحال کرے گا۔