پاک چین تعلقات کے 75 سال ،سینیٹ ، اسمبلی میں قرارداد منظور

پاک چین تعلقات کے 75 سال ،سینیٹ ، اسمبلی میں قرارداد منظور

چینی وفد کی آمد پر ارکان کا ڈیسک بجا کر استقبال ،اپوزیشن نے بائیکاٹ ختم کردیا پاکستان ون چائنا پالیسی پر پوری طرح کاربند ہے :اسحا ق ڈار، سینیٹ میں خطاب

اسلام آباد (نامہ نگار، سٹا ف رپورٹر، دنیا نیوز) قومی اسمبلی نے پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور کر لی۔سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں چینی وفد کی مہمانوں کی گیلری میں آمد پر ارکان نے ڈیسک بجا کر وفد کا استقبال کیا، سپیکر کی جانب سے چینی وفد کو خوش آمدید کہا گیا۔خاتون اوّل آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے چینی وفد کا پر جوش استقبال کیا گیا، انہوں نے مہمانوں کی گیلری میں جا کر چینی وفد کے شرکاء سے مصافحہ کیا۔ قرارداد وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہے ، ایوان چینی وفد کو خوش آمدید کہتا ہے اور سی پیک پر پاک چین کوششوں کو سراہتا ہے ۔قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان اعلان کرتا ہے کہ دنیا اگلے 75سال میں پاک چین دوستی کو مزید مضبوط دیکھے گی۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمارے اور حکومت کے درمیان شدید اختلافات ہیں جنہیں بالائے طاق رکھ کر ہم یہاں آئے ہیں، چینی وفد کی آمد پر بائیکاٹ ختم کیا، ہم چینی وفد کو قومی اسمبلی آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، چینی وفد کے احترام میں اپوزیشن نے نعرے بازی سے بھی گریز کیا، سپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس میں چینی پارلیمانی وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور آزمودہ دوستی پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں جے یو آئی کی عالیہ کامران نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ کفایت شعاری اقدامات کے باوجود پٹرول کاامپورٹ بل 500ملین ڈالربڑھ گیا ، اس کامطلب ہے کہ کھپت زیادہ ہوگئی ہے اوراقدامات سے فائدہ نہیں ہوا۔ایم ٹیگ کے باوجود چیک پوائنٹس بنائے گئے ہیں جس سے شہریوں کوپریشانی کاسامنا ہے ۔

ایم کیوایم پاکستان کے وسیم حسین نے کہاکہ پاورڈویژن کی جانب سے 17سے 21گریڈ کے افسران کیلئے بجلی کے مفت یونٹس ختم کئے گئے ،یہ ایک اچھا قدم ہے ۔ بعدازا ں قومی اسمبلی کااجلا س جمعہ کی صبح 11بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ اُدھر سینیٹ میں بھی پاک چین دوستی اور برادرانہ تعلقات کے اعادہ کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔قرارداد نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے پیش کی اور کہا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی پر پوری طرح کاربند ہے ، چین بھی پاکستان کی خودمختاری کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، پاکستان، ایران امریکا اسرائیل جنگ میں اپنے چینی ہم منصب سے مستقل رابطے میں رہا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے ۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اور چین اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے مشترکہ کوششیں دونوں ممالک کے ذمہ دارانہ کردار کی عکاس ہیں، یواین، ایس سی او اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان اور چین کا تعاون ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ میں اہم رہا۔ سینیٹ اجلاس میں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے وائس چیئرمین کائی ڈافنگ کی سربراہی میں آنے والے پارلیمانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری قائم ہے ۔ پاکستان اور چین خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل سفارتی رابطے میں ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں