لاہور کے بڑے نام پنکی کیساتھ منشیات سمگلنگ میں ملوث:پولیس

لاہور کے بڑے نام پنکی کیساتھ منشیات سمگلنگ میں ملوث:پولیس

16 اکاؤنٹ،معاملہ منی لانڈرنگ کی طرف جارہا،860غیرملکیوں، ڈیلرز کے نمبرملے ایک کیس میں پاسپورٹ بلاک ،اسلام آباد میں بھی رابطے ،قائمہ کمیٹیوں میں بریفنگ راجہ پرویز اشرف کا نام لئے جانے پر سندھ پولیس اور ایف آئی اے سے جواب طلب

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا کہ لاہور کے بڑے نام انمول پنکی کیساتھ منشیات سمگلنگ میں ملوث ہیں۔سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے پولیس چیف نے کہا کراچی پولیس اور حساس ادارے طویل عرصے سے اس کیس پر کام کر رہے تھے ۔انمول کراچی کی ہے ، اس کی لاہور میں ڈرگ سمگلر سے شادی ہوئی ہے ،انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے ۔انمول پنکی 18 سال سے ڈرگ سپلائی کر رہی ہے ، وہ آن لائن نیٹ ورک اور بائیکیا رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ، 2018 سے کراچی میں بھی سپلائی جاری ہے ۔آزاد خان نے کہا کہ کوکین ڈرگ سپلائی میں انمول کے دو بھائی اور خواتین کے علاوہ لاہور کے بڑے نام بھی انمول پنکی کیساتھ منشیات سمگلنگ میں ملوث ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انمول پنکی قتل کیس میں بھی ملوث ہے جس میں ریمانڈ نہیں ملا ، منشیات کی رقم آن لائن بھائیوں کے اکائونٹ میں منتقل ہوتی تھی ، موبائل فون میں 860 غیر ملکیوں اور دیگر منشیات ڈیلرز کے نمبر موجود ہیں، انمول پنکی کے موبائل سے بڑے ڈیلرز کے شواہد مل گئے ہیں۔کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ سندھ ،پنجاب ، خیبر پختونخوا کے منشیات ڈیلرز پنکی کیساتھ رابطے میں ہیں ، راجہ پرویز اشرف سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں ، پنکی کے موبائل فون سے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیس آگے بڑھا رہے ہیں۔دریں اثنا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین فیصل سلیم رحمن کی زیر صدارت ہواجس میں بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس آزاد خان نے کہا ابھی تک پنکی کے 16بینک اکاؤنٹس ملے ہیں، اس کے ایک اکاؤنٹ سے 90لاکھ روپے نکلے ، اس کا معاملہ منی لانڈرنگ کی طرف بھی جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا ملزمہ 2008 میں لاہور آئی جہاں وہ ماڈلنگ کرنا چاہتی تھی، پہلا شوہر رانا ناصر ڈرگ ڈیلر تھا، پھر اس نے طلاق لے کر سی آئی اے کے افسر سے شادی کرلی۔ یہ خاتون اور اس کے بھائی منشیات فروش ہیں، ملزمہ لاہور سے سیٹ اپ چلاتی ، خواتین کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی، 2021 سے 2026 تک ملزمہ کے خلاف 17 کیس بنے ، پنجاب میں اس پر 5 کیس ہیں، اس کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہوئی، یہ معاملہ کافی پھیل رہا ہے ، 2019 میں ایک کیس میں اس کا پاسپورٹ بلاک ہوگیا تھا، اس نے بعد میں دوسرا پاسپورٹ بنوانے کی کوشش کی۔انمول کو 12 مئی کو آپریشن کے دوران گارڈن کے علاقے سے گرفتار کیا گیا، گرفتاری کے دوران کوکین اور اسلحہ برآمد ہوا، ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا، جیسے اس کی پیشی ہوئی وہ ہائی لائٹ ہوا، عدالت پیشی پر ہمیں ریمانڈ نہیں ملا، کراچی میں منشیات کا عادی شخص مر گیا، اس سے برآمد ہونی والی ڈبی پر انمول پنکی برانڈ اس کی تصویر تھی، اس معاملے میں ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کو معطل کیا۔

پنکی کے رابطے اسلام آباد میں بھی ہیں، ہم پنجاب پولیس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے سے بھی تفتیش میں مدد لی جا رہی ہے ۔ چیئرمین سینیٹ کمیٹی نے منشیات کیس میں گرفتار پنکی کو اصل نام سے پکارنے کی ہدایت کی۔اے این ایف حکام نے کہا کہ ہمارے پاس انمول کا کیس 2019 میں بنا تھا، اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک تھا، ابھی وہ سندھ پولیس کی تحویل میں ہے ۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں۔ذرائع کے مطابق نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای اوز، پارٹی بوائز، سیاست دان، بیوروکریٹ بھی کسٹمرز کی فہرست میں شامل ہیں۔شوبز انڈسٹریز کی بیشتر شخصیات بھی پنکی سے منشیات خریدتی تھی جن خریداروں کے نام، نمبرز اور گھر کے پتے بھی حاصل کرلیے گئے ہیں۔ اعلیٰ پولیس حکام اور اداروں نے ان کی لسٹ بھی فائنل کرلی ہے ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین راجہ خرم نواز کی زیر صدارت ہوا،چیئرمین کمیٹی نے کہا انمول پنکی کے وکیل نے عدالت میں پیشی کے دوران سابق وزیراعظم پرویز اشرف کا نام لیا، جس پر سندھ پولیس اور ایف آئی اے افسران کو جواب دینا ہوگا۔ راجہ پرویز اشرف کمیٹی میں پیش ہوئے اور کہا دوسرا کلپ ان کے وکیل کا موصول ہوا، جس میں کہا گیا کہ انمول کے مطابق اس پر تشدد کیا جا رہا ہے کہ وہ راجہ پرویز اشرف کا نام لے ۔انہوں نے کہا وہ حیران ہیں کہ سندھ میں ان کی حکومت ہے اور وہاں ایسا کیوں ہوگا، وی لاگرز کو سوشل میڈیا پر بیچنے کے لیے ایسے مصالحے دار مواد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پرویز اشرف نے کہا اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی،انمول پنکی کیس میں ایڈیشنل آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل پولیس چیف سندھ کو انکوائری کرنے کا حکم دے دیا گیا، چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ جو لوگ بھی اس معاملے میں ملوث ہیں، ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، چیئرمین کمیٹی کے مطابق مکمل انکوائری رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے معزز رکن کے خلاف "جعلی اور بے بنیاد خبروں" کے پھیلا نے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی انہیں پروموٹ کیا جانا چاہیے ۔ چھوٹے مجرم اکثر مشہور شخصیات کے نام استعمال کر کے اپنے کیسز سے توجہ ہٹاتے ہیں۔الیکٹرانک میڈیا آؤٹ لیٹس اور ریگولیٹری اتھارٹیز حساس معاملات کی رپورٹنگ کرتے وقت احتیاط کریں۔وفاقی وزیر نے ایوان کو یقین دلایا کہ اس معاملے کی مکمل تفتیش کی جائے گی، جس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ متعلقہ بیان کیوں جاری کیا گیا اور کیا یہ حقائق پر مبنی تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں