خیبر پختونخوا جل رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں : چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
لوگوں کو مشکلات کا سامنا، اگر کوئی اپنا کام نہیں کر رہا تو اس کیخلاف کارروائی کا حکم دینگے :جسٹس ایس ایم عتیق شرم کی بات ہے صوبے سے ڈی این اے کے سیمپل لاہور بھیجے جاتے ہیں:توہین عدالت کیس میں ریمارکس
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا 4 کروڑ عوام کا صوبہ جل رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ،لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ، اگر کوئی اپنا کام نہیں کر رہا تو ہم اس کے خلاف کارروائی کا حکم دیں گے ۔یہ ریمارکس انہوں نے کریمینل جسٹس سسٹم میں خامیوں سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلا ف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران دیئے ۔ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان پر مشتمل لارجر بینچ کے روبرو چیف سیکرٹری، ایڈووکیٹ جنرل، سیکرٹری داخلہ پختونخوا پیش ہوئے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے پوچھا کہ چیف سیکرٹری صاحب بتائیں لارجر بینچ کے فیصلے پرعمل کیوں نہیں ہوا، جو رپورٹ آپ نے پیش کی اس میں توکچھ نہیں، ہم نے پراسیکیوشن کو مضبوط کرنے کا کہا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ جنوبی اضلاع دہشتگردی کی وجہ سے جل رہے ہیں، ڈی آئی خان، کرک، ٹانک میں کوئی جا نہیں جاسکتا، میں خود ڈی آئی خان جارہا تھا، سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے نہیں جاسکا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس صوبے کے بڑے افسر ہیں، اس صوبے میں کیا ہو رہا ہے ، پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کے افسران پسماندہ اضلاع میں نہیں جاتے ، ہماری خاتون جج وہاں ڈیوٹی کرسکتی ہے تو دوسرے افسر کیوں نہیں جاتے ۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ شرم کی بات ہے کہ صوبے سے ڈی این اے کے سیمپل لاہور بھیجے جاتے ہیں، ایک ڈی این اے ٹیسٹ پر 11 لاکھ روپے خرچہ آتا ہے جبکہ صوبے میں ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے کوئی لیبارٹری نہیں ۔ چیف سیکرٹری کے پی شہاب علی شاہ نے عدالت میں کہا کہ دو تین ہفتے دے دیں ، خود اس کو دیکھوں گا ۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں، جو افسران کام نہیں کرتے فارغ کریں، جو اچھے ہیں ان کو تعینات کریں، اگر سیاسی مداخلت ہو رہی ہو تو ہمیں بتائیں۔بعد ازاں عدالت نے درخواست کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کردی۔