بلوچستان میں ٹرینوں پر بڑھتے حملے سکیورٹی چیلنج بن گئے
2024سے 2026تک تین بڑے واقعات میں بیسیوں افرادشہید و زخمی جعفر ایکسپریس اور شٹل ٹرینیں بار بار دہشتگردی کا نشانہ،صورت حال سنگین
کوئٹہ (عرفان سعید)بلوچستان میں ریلوے ٹرینوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سنگین سکیورٹی چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ سال 2024سے 2026تک ٹرینوں پر ہونے والے تین ڑے حملوں میں مجموعی طور پر 115 سے زائد افراد شہید جبکہ 160 سے زائد مسافر زخمی ہو چکے ہیں۔ نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر اس وقت خودکش دھماکہ ہوا جب مسافر جعفر ایکسپریس کی روانگی کے منتظر تھے ، اس حملے میں 32 افراد شہید اور 55 زخمی ہوئے تھے ۔گزشتہ برس 11 مارچ کو بولان میں اسی ٹرین کو ہائی جیک کیا گیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 33 عسکریت پسند ہلاک ہوئے جبکہ 26 افراد جن میں 18 سکیورٹی اہلکار شامل تھے شہید ہوئے تھے ۔ بلوچستان میں ٹرینوں اور بسوں پر حملوں کے یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے میں ریلوے سکیورٹی ایک مستقل خطرے کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔واضح رہے کہ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس بلوچستان میں متعدد بار دہشتگردی کا نشانہ بنتی رہی ہے ۔ یہ ٹرین روزانہ صبح 9 بجے کوئٹہ سے روانہ ہوتی اور اگلے روز شام 7 بجے پشاور پہنچتی ہے ، تاہم سکیورٹی خدشات اور ریلوے ٹریک پر تخریب کاری کے باعث مختلف اوقات میں اس سروس کو معطل بھی کیا جاتا رہا ہے ۔ اتوار کے حالیہ واقعے میں جعفر ایکسپریس کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا تاہم اس بار مسافروں کو لے جانے والی شٹل ٹرین کو نشانہ بنایا گیا، جس سے سکیورٹی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے ۔2024 سے 2026 کے دوران پیش آنے والے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچستان میں ریلوے نظام دہشتگردوں کیلئے مسلسل ایک اہم ہدف بنا ہوا ہے ، جس کے باعث سکیورٹی اداروں کے لیے چیلنجز میں اضافہ ہو گیا ہے ۔