سیز فائر کے دوران ایران پر نئے امریکی حملے : وقت پیچھے نہیں لوٹے گا، امریکا کو فوجی اڈوں کیلئے کوئی محفوظ مقام نہیں ملے گا، اسرائیل کا خاتمہ قریب : مجتبیٰ خامنہ ای، معاہدہ اب بھی ممکن : روبیو
جنوبی ایران میں میزائل سائٹس،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا:سینٹکام،ایران کا امریکی ڈرون گرانے ،ایف 35طیارے پر فائرنگ کادعویٰ،مسقط کے قریب آئل ٹینکر میں دھماکا ایران افزودہ یورینیم امریکا کو دیگا یا وہیں تباہ کیا جائیگا:ٹرمپ، معاہدے میں چند دن لگیں گے :امریکی وزیر خارجہ، دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرینگے :ایران،قطر مذاکرات میں پیشرفت
تہران،واشنگٹن،دوحہ(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے جنگ بندی کے دوران ایران پر نئے حملے کردئیے ، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا وقت پیچھے نہیں لوٹے گا ، امریکا کو فوجی اڈوں کیلئے کوئی محفوظ مقام نہیں ملے گا، اسرائیل کا خاتمہ قریب ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیوکا کہنا ہے کہ معاہدہ اب بھی ممکن ہے ۔ امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام)نے اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ رات جنوبی ایران میں نئے حملے کیے ،جن میں ایرانی میزائل سائٹس اور اُن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے اپنے دفاع میں کیے گئے اور ان کا مقصد اپنے فوجیوں کو ایرانی فوج کی جانب سے لاحق خطرات سے بچاناتھا۔سنٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا حملوں کا ہدف بندر عباس کے قریب ایک علاقہ تھا۔ یہ جنوب میں ایک ساحلی شہر ہے اور امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی بحریہ کا ایک اڈا بھی اسی شہر میں ہے ۔قبل ازیں ایرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ بندر عباس اور شہر کے ہوائی اڈے کے اطراف دھماکے کی آواز سنی گئی ہے تاہم صورتحال قابو میں ہے ۔ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے امریکی ایم کیو-9 ڈرون، جسے ریپر کہا جاتا ہے ، کو مار گرایا ہے ،ریپر تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی پر 27 گھنٹوں سے زیادہ وقت تک پرواز کر سکتاہے ،یہ ڈرون جدید کیمروں، سینسرز اور ریڈارز کی مدد سے خفیہ معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایک آر کیو۔
4 ڈرون اور ایک ایف 35 لڑکا طیارے پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ پسپا ہو کر علاقائی پانیوں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے ۔ایرانی پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکاکی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے جواب میں کارروائی کرنے کا جائز اور قطعی حق محفوظ رکھتا ہے ۔ادھر برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یوکے ایم ٹی او) نے کہا ہے کہ ایک آئل ٹینکر نے بحری جہاز کے بیرونی حصے میں دھماکے کی اطلاع دی ہے ۔یہ ٹینکر عمان کے دارالحکومت مسقط سے 60 ناٹیکل میل کے فاصلے پر موجود تھا۔جہاز اور اس کا عملہ محفوظ ہے ، تاہم کچھ مقدار میں ایندھن سمندر میں بہہ گیا ہے ۔ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے طویل پیغام میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں ایران کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا وقت پیچھے نہیں لوٹے گا اور خطے کی اقوام اور سر زمینیں اب امریکی اڈوں کیلئے ڈھال نہیں بنیں گی۔اب اس خطے میں امریکا کو اپنے فوجی اڈوں کے لیے کوئی محفوظ مقام نہیں ملے گا۔اسرائیل کا وجود خاتمے کے قریب ہے اور وہ اگلے 25 برس نہیں دیکھ سکے گا۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا امریکا نے ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں حملوں کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے ،ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج نے 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بھی اپنی غیر قانونی اور بلاجواز کارروائیاں جاری رکھیں۔بیان میں خاص طور پر گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف مبینہ سمندری قزاقی کی متعدد کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا، جنھیں صوبہ ہرمزگان کے قریب جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل جاری ہے ۔ ان کارروائیوں سے امریکی قیادت کے بدنیتی پر مبنی عزائم ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں، نہ صرف ایران بلکہ خطے کے عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھی۔ایران نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی جارحانہ اقدام کو بلا جواب نہیں چھوڑے گا اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے بھرپور اقدامات کرے گا۔ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان ابوالفضل شکارچی نے کہا کوئی نئی جارحیت یا خلاف ورزی کا جواب خطے سے باہر تک پھیلے گا، کسی بھی نئی خلاف ورزی کی صورت میں ایران کا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدیداور طاقتور ہوگا۔دریں اثنا کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے ، قطر میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف ،عباس عراقچی اور ایرانی مرکزی بینک کے صدر کے مذاکرات کے حوالے سے ایرانی میڈیا نے اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ دوحہ میں ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں مجموعی طور پر مفید رہیں، جن کے نتیجے میں وسیع تر سفارتی عمل میں پیشرفت سامنے آئی ہے ۔ذرائع کے مطابق ایران مذاکراتی عمل کو انتہائی احتیاط سے آگے بڑھا رہا ہے کیونکہ تہران اب بھی امریکا کو ایک غیر قابلِ اعتماد فریق سمجھتا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر نئے حملوں کے بعد کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ اب بھی ممکن ہے ۔انڈیا کے سرکاری دورے کے دوران جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہاآج قطر میں مذاکرات جاری تھے ، دیکھنا ہوگا کہ کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے یا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ زیادہ وقت دستاویزات کے متن میں استعمال ہونے والے الفاظ اور اصطلاحات کی درستی پر صرف ہوتا ہے ، اس لیے اس میں چند دن لگیں گے ۔انھوں نے مزید کہاصدر نے اس کام کو انجام دینے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ وہ یا تو ایک اچھا معاہدہ حاصل کریں گے یا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔
آبنائے ہرمز کے کھولے جانے پر زور دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہاجو کچھ وہاں ہو رہا ہے ، وہ غیر قانونی ہے اور قواعد کے خلاف ہے ۔ یہ دنیا کیلئے عدم استحکام کا باعث ہے اور ناقابل قبول ہے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں لکھا ایران میں موجود افزودہ یورینیم یا تو فوری طور پر امریکا کے حوالے کیا جائے گا تاکہ اسے وہاں لے جا کر تباہ کیا جا سکے ، یا ایران کے ساتھ مل کر وہیں کسی اور قابلِ قبول مقام پر تباہ کیا جائے گا، جبکہ جوہری توانائی کمیشن یا اس کے مساوی ادارہ اس عمل کا مشاہدہ کرے گا۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں دو خاکے بھی شیئر کیے ، ایک پر نقدی کا ڈھیر پڑا ہے اور لکھا ہے اوباما (سابق امریکی صدر) کی ایران پالیسی۔ جبکہ دوسرے خاکے میں امریکی پرچم بردار بحری جنگی جہاز دکھایا گیا ہے جو بمباری کر رہا ہے ۔ اس پر تحریر ہے ٹرمپ کی ایران پالیسی۔